پیٹ ہیگستھ، امریکی وزیر دفاع و جنگ نے ایک پریس کانفرنس میں ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کے پس منظر پر تفصیل سے گفتگو کی۔ انہوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں فوجی اہلکاروں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف ایسی کامیابی حاصل کی جو پہلے کسی کے حصے میں نہیں آئی۔
وزیر دفاع نے بتایا کہ ایرانی حکومت کے نئے اور مذاکرات کے حامی گروپس نے جنگ بندی کے لیے خود درخواست دی، جس پر صدر ٹرمپ نے رحم اور حکمت عملی کے ساتھ عمل کیا۔
پیٹ ہیگستھ نے ایران کی فضائیہ اور نیوی کو شدید نقصان پہنچانے اور جوہری صلاحیتوں کو محدود کرنے کا دعویٰ بھی کیا۔ ان کے مطابق امریکا کی ہمیشہ یہی شرط رہی ہے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہ ہوں اور وہ اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ ایران معاہدے کی ہر معقول شرط پر عمل کرے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ موجودہ جنگ بندی دو ہفتوں کے لیے ہے، لیکن امریکی فوج کسی بھی بدلتی صورت حال پر فوری ردعمل دینے کے لیے تیار ہے، اور ضرورت پڑنے پر دوبارہ جنگ کا آغاز کر سکتی ہے۔
پیٹ ہیگستھ کے بعد جنرل ڈین کین نے بھی پینٹاگون میں پریس کانفرنس سے خطاب کیا اور امریکا کی فوجی تیاری اور خطے میں امن قائم رکھنے کے عزم پر زور دیا۔
امریکی وزیر دفاع کا دعویٰ: ایران نے جنگ بندی کے لیے ’رحم‘ مانگا، صدر ٹرمپ نے فیصلہ کیا








