وزیرِاعلیٰ پنجاب مریم نواز نے پنجاب سائبر کرائم یونٹ کے قیام کی منظوری دے دی۔
لاہور میں وزیرِ اعلیٰ پنجاب کی زیرِ صدارت اجلاس ہوا جس میں سوشل میڈیا پر بچوں، خواتین کی ہراسمنٹ اور بلیک میلنگ کے خاتمے کے حوالے سے فیصلے کیے گئے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ اب بلیک میلنگ، ہراسمنٹ کا شکار بچوں کو شکایت کے لیے تھانے یا کسی دفتر میں نہیں جانا پڑے گا۔
متاثرہ کم عمر بچے اور بچیوں کی شکایت کے اندراج کے لیے موبائل یونٹ جائے گا، اس کے علاوہ سائبر کرائم یونٹ فرنٹ ڈیسک اور ’پی کے ایم‘ ایپ پر بھی شکایت درج کی جا سکے گی۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ متاثرہ بچے بالخصوص خواتین ورچوئل پولیس اسٹیشن میں بھی شکایت درج کرا سکیں گی جہاں ان کی شناخت مکمل طور پر پوشیدہ رکھی جائے گی۔
اجلاس میں مجرموں کو قرار واقعی سزا دلوانے کے لیے قانون سازی کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے، پنجاب آن لائن سیفٹی ایکٹ 2026ء کے ابتدائی مسودے پر کام شروع کر دیا گیا ہے جو جلد پیش کیا جائے گا۔
بریفنگ میں بتایا گیا ہے کہ پنجاب پولیس سائبر پیٹرول ونگ اور سائبر پولیس اکیڈمی بھی قائم کی جائے گی اس کے علاوہ سوشل میڈیا مانیٹرنگ اور سرویلنس کے لیے انٹیلی جنس سسٹم بھی قائم کیا جائے گا۔
اجلاس کے دوران وزیرِ اعلیٰ پنجاب نے کہا ہے کہ والدین بچوں کے سوشل میڈیا کے استعمال کو محدود کرنے پر توجہ دیں اور کسی بھی شخص کو دوسروں کی پرائیویسی میں دخل کا ہرگز حق حاصل نہیں ہے۔









