بیجنگ (ویب ڈیسک)وسطی چین کے شہرووہان میں ایک غیر معمولی اور تشویشناک واقعہ پیش آیا، جہاں 100 سے زائد ڈرائیور لیس روبوٹیکسیز اچانک بند ہو گئیں، جس کے نتیجے میں درجنوں مسافر گاڑیوں کے اندر محصور ہو کر رہ گئے۔عینی شاہدین کے مطابق بعض مسافر تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک گاڑیوں میں پھنسے رہے۔ کئی افراد دروازے نہ کھلنے کے باعث شدید خوف اور بے بسی کا شکار ہوئے، جبکہ مصروف ٹریفک کے باعث کچھ مسافروں نے گاڑی سے باہر نکلنے کا خطرہ بھی مول نہیں لیا۔
حکام کے مطابق تمام متاثرہ گاڑیاں ایک ہی کمپنی کی تھیں اور بیک وقت تکنیکی خرابی کا شکار ہوئیں، جس نے مرکزی کنٹرول سسٹم پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ایک خاتون مسافر نے بتایا کہ وہ بارہا ہیلپ لائن سے رابطہ کرتی رہیں، مگر ابتدائی طور پر کوئی مؤثر مدد فراہم نہ کی جا سکی۔ انہیں مسلسل یہ یقین دہانی کروائی جاتی رہی کہ ماہر ٹیم راستے میں ہے، لیکن تاخیر نے ان کی پریشانی میں اضافہ کر دیا۔بعد ازاں ریسکیو ٹیموں نے تمام مسافروں کو بحفاظت نکال لیا، تاہم اس واقعے نے خودکار ٹیکنالوجی کے حفاظتی نظام پر بحث چھیڑ دی ہے۔
ماہرین کے مطابق روبوٹیکسیز مرکزی کنٹرول سسٹم کے ساتھ ساتھ اپنے اندرونی خودکار نظام پر بھی کام کرتی ہیں، لیکن اگر مرکزی نظام متاثر ہو جائے تو بڑی تعداد میں گاڑیاں بیک وقت ناکارہ ہو سکتی ہیں۔اگرچہ اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، مگر اس نے ڈرائیور لیس ٹیکنالوجی کی قابلِ اعتماد حیثیت اور ہنگامی صورتحال میں ردعمل کے حوالے سے نئے خدشات کو جنم دیا ہے۔ حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔









