بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

مصنوعی ذہانت انسانیت کیلئے خطرہ بن سکتی ہے، سینیٹر برنی سینڈرز نے خبردار کردیا

امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) مستقبل میں انسانیت کے وجود کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے، اور اس پر فوری عالمی و سیاسی(international and political) سطح پر سنجیدہ بحث ناگزیر ہے۔

سینڈرز نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے طویل بیان میں معروف اے آئی ماہرین کے خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بعض سائنسدانوں کے مطابق اس ٹیکنالوجی کے باعث انسانی تہذیب کے خاتمے کا خطرہ بھی موجود ہے۔

انہوں نے نوبیل انعام یافتہ اور اے آئی کے ’گاڈ فادر‘ کہلانے والے جیوفری ہنٹن کے اس مؤقف کا ذکر کیا کہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے انسانیت کے ختم ہونے کے امکانات 10 سے 20 فیصد تک ہو سکتے ہیں۔ سینڈرز نے سوال اٹھایا کہ اتنے بڑے خدشے کے باوجود امریکی کانگریس میں اس پر باضابطہ اور سنجیدہ بحث کیوں نہیں ہو رہی۔

انہوں نے کہا کہ ان خدشات کے باوجود گزشتہ چند برسوں میں نہ تو کوئی عالمی معاہدہ ہوا، نہ ہی امریکی کانگریس میں کوئی جامع بحث سامنے آئی، اور نہ ہی ترقی کی رفتار کو روکنے یا محدود کرنے کے لیے کوئی ٹھوس قدم اٹھایا گیا۔

برنی سینڈرز کے مطابق وہ اس مسئلے کو صرف سائنسی یا نظریاتی خطرہ نہیں سمجھتے بلکہ اس کے عملی اثرات بھی سامنے آ رہے ہیں، جن میں ملازمتوں کا خاتمہ، بچوں کی ذہنی و سماجی نشوونما پر اثرات، اور پرائیویسی کے بڑھتے ہوئے مسائل شامل ہیں۔

برنی سینڈرز نے اعلان کیا کہ وہ امریکی کانگریس میں معروف اے آئی ماہرین کو طلب کریں گے تاکہ اس ٹیکنالوجی کے خطرات پر تفصیلی بحث کی جا سکے۔

مزید پڑھیں:ریاضی کا انوکھا فارمولا، دلچسپ وعجیب معمہ، کیسے حل کر سکتے ہیں؟

اس کے علاوہ سینڈرز نے ایک نئی قانون سازی کی بھی حمایت کی ہے جس میں اے آئی ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر پر عارضی پابندی کی تجویز شامل ہے، جب تک حفاظتی ضوابط مکمل طور پر تیار نہ کر لیے جائیں۔