ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی(Abbas Araghchi) نے کہا ہے کہ انہوں نے حالیہ دورۂ پاکستان کے دوران اسلام آباد میں اپنے ’’دوستوں‘‘ کے ساتھ امریکہ کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے کے طریقۂ کار اور شرائط پر تفصیلی مشاورت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے حالیہ عرصے میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، جس کے باعث موجودہ صورتحال پر قریبی رابطہ ناگزیر تھا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ اسلام آباد اور مسقط کے دورے دوطرفہ نوعیت کے تھے، تاہم پاکستان کے ساتھ بات چیت خاص طور پر اہم رہی کیونکہ حالیہ ہفتوں میں یہ ملک امریکہ-ایران رابطوں میں ایک مؤثر ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے۔ انہوں نے اس امر کا اعتراف کیا کہ مذاکرات میں پیش رفت کے باوجود بعض “غلط رویوں” اور “ضرورت سے زیادہ مطالبات” کی وجہ سے حالیہ دور مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکا، جس کے بعد پاکستان کے ساتھ دوبارہ مشاورت ضروری ہو گئی۔
عباس عراقچی کے مطابق پاکستان میں ہونے والی ملاقاتیں “انتہائی مفید اور کامیاب” رہیں، جن میں نہ صرف اب تک ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا بلکہ آئندہ مذاکرات کے لیے ممکنہ راستوں اور شرائط پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ خطے میں جاری سفارتی کوششیں بالآخر کسی مثبت نتیجے تک پہنچیں گی۔
ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں ایرانی عوام کی مزاحمت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ “چالیس دن کی جراتمندانہ مزاحمت” نے ایران کو اس قابل بنایا ہے کہ وہ اپنے قومی مفادات، خودمختاری اور عوامی حقوق کا مؤثر دفاع کر سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کسی بھی مذاکراتی عمل میں اپنے بنیادی مفادات پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
دوسری جانب، عراقچی نے عمان کے دورے کو بھی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسقط کے ساتھ ملاقاتوں کا مقصد خلیجی خطے میں تعاون کو فروغ دینا اور خاص طور پر آبنائے ہرمز کی صورتحال پر ہم آہنگی پیدا کرنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک اہم مسئلہ ہے، اور ایران و عمان بطور ساحلی ریاستیں اس حوالے سے مشترکہ ذمہ داری رکھتے ہیں۔
📹 اظهارات عراقچی در بدو ورود به سنپترزبورگ
وزير خارجه:
این فرصت فراهم شد تا درباره تحولات مرتبط با جنگ در این مدت و وضعیت فعلی، با دوستان روس خود رایزنی کنیم و آخرین وضعیت را مرور کنیم
طبیعی است که هماهنگیهای لازم نیز باید صورت گیرد https://t.co/xcmwXrJDvI pic.twitter.com/VtEQVm0Ebg
— خبرگزاری تسنیم (@Tasnimnews_Fa) April 27, 2026
انہوں نے مزید کہا کہ ایران اور عمان کے درمیان کئی امور پر مشترکہ مفادات پائے جاتے ہیں اور دونوں ممالک نے فیصلہ کیا ہے کہ ماہرین کی سطح پر مشاورت کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا تاکہ خطے میں پائیدار استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔
مزیدپڑھیں:عامر خان اپنے بیٹے کی فلم دیکھ کر رو پڑے، ہیروئن کے جذبات بھی قابو میں نہ رہے
روس کے دورے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ماسکو کے ساتھ ایران کے تعلقات ہمیشہ قریبی رہے ہیں اور دونوں ممالک مختلف علاقائی و عالمی امور پر مسلسل رابطے میں رہتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ رمضان کے دوران جنگی صورتحال کے باعث ملاقاتوں میں تعطل آیا تھا، تاہم اب اس خلا کو پُر کرنے کے لیے روس کا دورہ ترتیب دیا گیا ہے جہاں وہ صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کریں گے۔
Iran’s FM Araghchi TOUCHES DOWN in Saint Petersburg ahead of talks with President Vladimir Putin pic.twitter.com/seWWqqCEmg
— RT (@RT_com) April 27, 2026
ادھر سفارتی ذرائع کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکراتی عمل تاحال غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں اسلام آباد میں مجوزہ مذاکراتی دورہ منسوخ کر دیا تھا، جس سے باضابطہ بات چیت میں تعطل پیدا ہوا۔ تاہم انہوں نے یہ عندیہ بھی دیا کہ پاکستان اس عمل میں بدستور شامل رہے گا۔
ذرائع کے مطابق ایران نے پاکستان کے ذریعے امریکہ کو تحریری پیغامات بھی بھجوائے ہیں، جن میں اپنی “ریڈ لائنز” واضح کی گئی ہیں۔ ان میں جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز سے متعلق معاملات سرفہرست ہیں۔ تاہم یہ پیغامات باضابطہ مذاکرات کا حصہ نہیں بلکہ اعتماد سازی کی کوششوں کے طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نے ایک نئی تجویز بھی پیش کی ہے جس میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور جنگ کے خاتمے کی بات کی گئی ہے، جبکہ جوہری مذاکرات کو بعد کے مرحلے تک مؤخر کرنے کی تجویز شامل ہے۔ ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے نے اس رپورٹ کی تردید نہیں کی، جس سے اس امکان کو تقویت ملتی ہے کہ پس پردہ سفارتی سرگرمیاں جاری ہیں۔
Appreciative of my gracious hosts in Oman.
Important discussions on bilateral matters and regional developments. As only Hormuz littoral states, our focus included ways to ensure safe transit that is to benefit of all dear neighbors and the world.
Our neighbors are our priority pic.twitter.com/QffTsjCWgW
— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) April 26, 2026
دوسری جانب آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی معیشت پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ تیل، گیس اور کھاد کی ترسیل متاثر ہونے سے عالمی منڈیوں میں قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے باعث ترقی پذیر ممالک میں خوراک کے بحران کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز پر کنٹرول برقرار رکھنے کے اعلان اور امریکہ کی طرف سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
ایرانی پاسداران انقلاب نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنی حکمت عملی تبدیل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے اور آبنائے ہرمز پر کنٹرول کو اپنی دفاعی پالیسی کا اہم حصہ سمجھتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ اقدام خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے۔
ادھر پاکستان میں ہونے والے ممکنہ دوسرے مذاکراتی دور کی امیدیں بھی تاحال برقرار ہیں، تاہم امریکی وفد کے دورے کی منسوخی اور ایران کی جانب سے براہ راست ملاقات سے گریز کے باعث پیش رفت سست روی کا شکار ہے۔ اس کے باوجود سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان پس پردہ رابطے جاری ہیں اور مستقبل قریب میں کسی نئے دور کے انعقاد کا امکان موجود ہے۔
مبصرین کے مطابق موجودہ صورتحال میں پاکستان کا کردار نہایت اہمیت اختیار کر چکا ہے، جو ایک جانب خطے میں توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے تو دوسری جانب عالمی طاقتوں کے درمیان پل کا کردار ادا کر رہا ہے۔ اگر یہ سفارتی کوششیں کامیاب ہو جاتی ہیں تو نہ صرف خطے میں کشیدگی کم ہو سکتی ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک بڑے بحران کو ٹالنے میں مدد مل سکتی ہے۔









