Keir Starmer نے کہا ہے کہ بعض حالات میں فلسطین کے حامی مظاہروں پر پابندی عائد کی جا سکتی ہے، جبکہ متنازعہ نعروں کے استعمال پر قانونی کارروائی بھی ممکن ہے۔
بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ وہ آزادی اظہار اور پرامن احتجاج کے حامی ہیں، لیکن ان کے مطابق کچھ نعرے، خصوصاً “انتفادہ کو عالمی بنائیں”، قابلِ قبول نہیں سمجھے جا سکتے۔
سٹارمر نے کہا کہ اگر ایسے نعرے استعمال کیے جائیں تو “سخت کارروائی” ہونی چاہیے، اور اس سلسلے میں پولیس کے ساتھ مسلسل مشاورت جاری ہے تاکہ مزید اقدامات طے کیے جا سکیں۔ ان کے مطابق بعض صورتوں میں احتجاجی ریلیوں پر مکمل پابندی بھی مناسب ہو سکتی ہے۔
ان کے یہ ریمارکس اس سے قبل دیے گئے اس بیان کے بعد آئے ہیں جس میں انہوں نے مذکورہ نعرے کو شدت پسندی سے جوڑتے ہوئے کہا تھا کہ اس کے استعمال پر قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔
پاک-افغان سرحدی صورتحال پر برطانوی مؤقف حقیقت کے مطابق نہیں: دفتر خارجہمزید پڑھیں؛
Metropolitan Police Service کے کمشنر سر مارک رولی نے بھی کہا ہے کہ ایسے نعروں کے استعمال پر گرفتاری کا امکان موجود ہے۔
یہ بحث ایسے وقت میں شدت اختیار کر رہی ہے جب برطانیہ میں فلسطین کے حق میں ہونے والے مظاہروں اور ان پر حکومتی ردعمل کو لے کر سیاسی اور سماجی حلقوں میں اختلاف بڑھ رہا ہے۔ حکومت کو بعض حلقوں کی جانب سے یہ الزام بھی سامنا ہے کہ وہ اظہارِ رائے کی آزادی کو محدود کر رہی ہے۔
حالیہ کشیدہ ماحول میں سکیورٹی خدشات بھی بڑھ گئے ہیں، خاص طور پر لندن کے بعض علاقوں میں پیش آنے والے واقعات کے بعد، جس کے نتیجے میں سکیورٹی الرٹ کی سطح بھی بلند کی گئی ہے۔









