Iran میں جنگ کے دوران گرائے گئے غیر پھٹے بموں کو ناکارہ بنانے کے دوران ایک افسوسناک دھماکا ہوا ہے، جس میں پاسدارانِ انقلاب کے 14 اہلکار جاں بحق ہو گئے۔
رپورٹس کے مطابق امریکا اور Israel کی جانب سے حالیہ جنگ کے دوران مختلف علاقوں میں ایسے بارودی مواد گرائے گئے تھے جو مکمل طور پر پھٹ نہیں سکے تھے۔ جنگ بندی کے بعد ان علاقوں میں صفائی اور ڈیمائننگ کا عمل شروع کیا گیا۔
یہ واقعہ تہران کے شمال مغرب میں واقع شہر Zanjan کے قریب اس وقت پیش آیا جب اہلکار زمین میں دبے ہوئے بموں اور بارودی مواد کو ناکارہ بنانے میں مصروف تھے۔ اسی دوران اچانک ایک دھماکا ہوا جس کے نتیجے میں 14 اہلکار موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔
جنوبی لبنان پر اسرائیلی حملوں میں شدت، کم از کم 10 افراد ہلاکمزید پڑھیں؛
ایرانی میڈیا کے مطابق جاں بحق ہونے والے اہلکار Islamic Revolutionary Guard Corps سے تعلق رکھتے تھے اور حساس علاقے کو کلیئر کرنے کے آپریشن میں حصہ لے رہے تھے۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اس مقام پر کلسٹر بم اور فضائی بارودی سرنگیں موجود تھیں، جو جنگ کے دوران استعمال کی گئی تھیں اور بعد میں بھی خطرناک ثابت ہو رہی ہیں۔
ماہرین کے مطابق ایسے غیر پھٹے بم طویل عرصے تک زمین میں موجود رہ کر بھی جان لیوا خطرہ بنے رہتے ہیں، خصوصاً جب انہیں ہٹانے یا ناکارہ بنانے کی کوشش کی جائے۔
جنگ بندی کے بعد یہ واقعہ اس نوعیت کا سب سے بڑا جانی نقصان قرار دیا جا رہا ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جنگ ختم ہونے کے باوجود میدانِ جنگ میں بچ جانے والا اسلحہ اب بھی شدید خطرہ بنا ہوا ہے۔









