بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

سائنس دانوں نے ملکی وے کہکشاں کا حتمی کنارہ دریافت کر لیا

ماہرین کے مطابق نئی تحقیق میں پہلی بار ملکی وے کہکشاں کے “فعال ستاروں کی پیدائش والے خطے” کی واضح حد کا تعین کیا گیا ہے، جو کہ ایک لاکھ سے زائد ستاروں کے ڈیٹا کے تجزیے پر مبنی ہے۔

یونیورسٹی آف مالٹا کے سائنس دانوں نے اس تحقیق میں ستاروں کی عمر، مقام اور حرکات کا باریک بینی سے مطالعہ کیا اور یہ نتیجہ اخذ کیا کہ کہکشاں کے مرکز سے تقریباً 40 ہزار نوری سال کے فاصلے پر ایک واضح تبدیلی (transition zone) موجود ہے۔
تحقیق کے مطابق کہکشاں کے اندرونی حصے میں ستاروں کی اوسط عمر زیادہ ہے کیونکہ وہاں ماضی میں گیس اور گرد کے گھنے بادلوں کی وجہ سے ستاروں کی تشکیل بہت تیزی سے ہوئی
تھی۔ جیسے جیسے ہم مرکز سے باہر کی طرف جاتے ہیں، وہاں گیس کی مقدار کم ہونے کے باعث ستاروں کی پیدائش کی شرح بھی کم ہو جاتی ہے اور نسبتاً کم عمر ستارے زیادہ نظر آتے ہیں۔
مزید پڑھیں—-عائزہ خان پر فوٹو شوٹ میں لباس کے انتخاب پر مداحوں کی سخت تنقید
تاہم ایک خاص فاصلے کے بعد یہ رجحان مزید بدل جاتا ہے، جہاں نہ صرف ستاروں کی پیدائش انتہائی کم ہو جاتی ہے بلکہ ستاروں کی عمر اور تقسیم کا پیٹرن بھی مختلف ہو جاتا ہے۔ سائنس دانوں نے اسی “critical boundary” کو کہکشاں کا عملی کنارہ قرار دیا ہے، جہاں سے آگے نئی ستاروں کی تشکیل تقریباً رک جاتی ہے۔
محققین کے مطابق یہ مشاہدہ ملکی وے کی ساخت اور ارتقائی تاریخ کو سمجھنے میں ایک اہم پیش رفت ہے، کیونکہ اس سے واضح ہوتا ہے کہ کہکشاں کے مختلف حصوں میں ستاروں کی تشکیل کا عمل ایک جیسا نہیں بلکہ واضح زونز میں تقسیم ہے۔