پاکستان اور افغانستان کے درمیان میرپور ٹیسٹ کے ٹاس کے ساتھ ہی مینز ٹیسٹ کرکٹ میں ایک غیر معمولی وقفے کا اختتام ہوگیا۔
سڈنی ایشیز ٹیسٹ کے بعد اگلا ٹیسٹ میچ 124 دن بعد کھیلا جا رہا ہے، جو گزشتہ 50 برس میں کورونا اور ورلڈ کپ کے علاوہ سب سے طویل غیر اعلانیہ وقفہ قرار دیا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق 2026 کے ابتدائی چار ماہ میں صرف ایک ٹیسٹ میچ کھیلا گیا، جس نے ٹیسٹ کرکٹ کے مستقبل پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
Pakistan and Bangladesh facing off in Mirpur marks the end of a 124-day gap between the starts of two consecutive men’s Test matches.
Outside of Covid-19 and men’s ODI World Cups, there has not been a longer gap in over 50 years.@ovshake42 wonders what it means for the format.… pic.twitter.com/G1dgr3a5qM
— Wisden (@WisdenCricket) May 8, 2026
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طویل تعطل کی بڑی وجہ دنیا بھر میں ہونے والی ٹی ٹوئنٹی لیگز ہیں جنہوں نے بین الاقوامی شیڈول کو شدید متاثر کیا ہے۔
ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ، آئی پی ایل، پی ایس ایل، بی بی ایل اور ایس اے ٹی ٹوئنٹی جیسے ایونٹس کے باعث ٹیسٹ کرکٹ کو شیڈول میں ثانوی حیثیت ملتی جا رہی ہے۔
مزیدپڑھیں:پاکستان اور چین کے درمیان بڑی تجارتی پیشرفت؛ اربوں ڈالر کے معاہدے متوقع
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ اب ٹیسٹ کرکٹ زیادہ تر بھارت، انگلینڈ اور آسٹریلیا تک محدود ہوتی جا رہی ہے جبکہ دیگر ممالک مالی فوائد نہ ہونے کے باعث اس فارمیٹ کو ترجیح نہیں دے رہے۔
ماہرین نے مستقبل میں ٹی ٹوئنٹی لیگز کے لیے مستقل ونڈوز مقرر کرنے کی تجویز بھی دی ہے۔









