واشنگٹن ، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ(prwsedent donald trump) نے ایران کے حوالے سے اپنے تازہ ترین بیان میں واضح کیا ہے کہ ان کی انتظامیہ تہران کے خلاف “زیادہ سے زیادہ دباؤ” (Maximum Pressure) کی پالیسی کو دوبارہ نافذ کرنے کے لیے تیار ہے۔ صدر ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ایران کو اپنے جوہری پروگرام اور علاقائی مداخلت کے حوالے سے سنجیدگی سے سوچنا ہوگا کیونکہ امریکہ اب مزید کسی قسم کی رعایت دینے کے حق میں نہیں ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے تبصرے میں اس بات پر زور دیا کہ ان کا مقصد ایران کے ساتھ کسی نئی جنگ کا آغاز کرنا نہیں بلکہ ایک ایسی جامع ڈیل کرنا ہے جو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے مفادات کا تحفظ کر سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی جانب سے پراکسی گروپس کی حمایت خطے کے امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے اور واشنگٹن ان سرگرمیوں کو روکنے کے لیے ہر ممکن معاشی اور سفارتی حربہ استعمال کرے گا۔
سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کے اس بیان کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں تناؤ کی نئی لہر پیدا ہو سکتی ہے، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے تاحال اس پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
مزید پڑھیں:امریکا اسرائیل میں مستقل فوجی اڈے قائم کرنے پر غور کررہا ہے، اسرائیلی میڈیا
میڈیا رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ پہلے ہی ایران پر نئی اقتصادی پابندیوں کی فہرست تیار کر چکی ہے جسے ان کے عہدہ سنبھالتے ہی نافذ کیے جانے کا امکان ہے۔ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں اور سفارتی تعلقات پر اس بیان کے دوررس اثرات مرتب ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔









