Pakistan سے تعلق رکھنے والے عازمینِ حج نے حج 2026 کے دوران ناقص انتظامات پر شدید احتجاج کرتے ہوئے سردار یوسف کو شکایات کے انبار لگا دیے، جبکہ بعض عازمین نے قانونی کارروائی اور مقدمہ دائر کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔
عازمین کا کہنا تھا کہ انہوں نے 12، 12 لاکھ روپے ادا کیے، مگر اس کے باوجود رہائش، ٹرانسپورٹ اور کھانے کے انتظامات انتہائی ناقص ہیں۔ ان کے مطابق بیڈ مناسب نہیں، ٹرانسپورٹ وقت پر نہیں پہنچتی اور کئی بار جلا ہوا یا غیر معیاری کھانا فراہم کیا گیا۔
حجاج نے شکوہ کیا کہ ان کی شکایات سننے والا کوئی نہیں اور انہیں بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا ہے۔ بعض عازمین نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ حج کے بجائے کسی قید میں آئے ہوں۔
مزید پڑھیں؛جن قوموں نے ظلم کیا اور ناشکری کی ان سےنعمتیں چھین لی گئیں: خطبہ حج
وفاقی وزیر مذہبی امور سردار یوسف نے عازمین کو یقین دہانی کرائی کہ ناقص انتظامات کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی اور شکایات کے ازالے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں گے۔ تاہم عازمین نے سوال اٹھایا کہ اگر مسائل پہلے سے موجود تھے تو بروقت ایکشن کیوں نہیں لیا گیا۔
اس پر وزیر مذہبی امور کا کہنا تھا کہ حکومت کو ان مسائل کی مکمل معلومات پہلے حاصل نہیں تھیں۔ دوسری جانب عازمین نے سعودی عرب میں موجود متعلقہ حکام اور بیوروکریسی کی کارکردگی پر بھی سخت سوالات اٹھائے۔
ادھر Ministry of Religious Affairs and Interfaith Harmony کے ترجمان نے اس معاملے پر باقاعدہ مؤقف دینے سے گریز کیا ہے۔









