اسرائیل (Israel) نے جنوبی لبنان سے اپنی فوج کے انخلا کے مطالبے کو ماننے سے انکار کر دیا ہے، جس کے باعث جاری مذاکرات میں کشیدگی برقرار ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی ثالثی میں ہونے والی بات چیت کے دوران اسرائیلی حکام نے لبنانی مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ جب تک حزب اللہ غیر مسلح نہیں ہوتی، اسرائیلی فوج اپنی موجودہ پوزیشن برقرار رکھے گی۔
اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق مذاکرات میں اسرائیل نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ حزب اللہ کی سرگرمیوں کی نگرانی کے لیے اسے مکمل رسائی دی جائے۔
مزیدپڑھیں؛وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کی صحت سے متعلق میڈیکل رپورٹ جاری کر دی
رپورٹس کے مطابق دونوں فریق براہِ راست بات چیت کے بجائے امریکی ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ کر رہے ہیں۔ اس دوران لبنانی نمائندوں نے بعض اسرائیلی عسکری اصطلاحات پر وضاحت بھی طلب کی، جن میں “کم خطرہ” اور “خطرے کا جواب” جیسے الفاظ شامل ہیں۔
مزید بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی وفد نے نقشے پیش کیے جن میں حزب اللہ سے منسلک ڈرون تنصیبات اور ہتھیاروں کے ذخیرہ کرنے کے مبینہ مقامات کی نشاندہی کی گئی۔ اسرائیل نے مطالبہ کیا کہ لبنانی فوج ان مقامات کو ختم کرے، تاہم لبنان نے اسے پیشگی شرط کے طور پر قبول کرنے سے انکار کر دیا۔









