بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کا معاملہ؛ عدالت نے عبوری حکم جاری کردیا

لاہور(نیوز ڈیسک)سپریم کورٹ نے وزیر اعلی پنجاب کے انتخاب میں مسلم لیگ (ق) کے 10 ووٹ شمار نہ کرنے کیخلاف درخواست پر عبوری حکم جاری کردی۔
چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے پرویز الٰہی کی درخواست پر تحریری حکم جاری کیا۔ سپریم کورٹ کا عبوری تحریری حکم 6 صفحات پر مشتمل ہے۔
سپریم کورٹ نے عبوری حکم میں کہا کہ پنجاب حکومت کے وکلاء ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ پر وضاحت نہیں دے سکے، عدالت نے حمزہ شہباز اور ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کے وکلاء کا رولنگ پر وضاحت نہ دینا نوٹ کیا ہے۔
عدالتی حکمنامے میں کہا گیا کہ وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز کی موجودہ حیثیت گہرے خطرے میں ہے ، موجودہ حالات میں حمزہ شہباز کو منتخب وزیر اعلی نہیں کہا جا سکتا۔
عبوری حکم میں کہا گیا کہ فریقین کے درمیان موجودہ صورتحال بالکل یکم جولائی والی صورتحال ہو چکی ہے، یکم جولائی کو فریقین کی رضا مندی سے حمزہ شہباز کو ٹرسٹی وزیر اعلی بنایا گیا تھا۔
عدالت نے کہا کہ یکم جولائی کو ہی حمزہ شہباز کے بطور وزیر اعلی اختیارات محدود کر دیئے تھے، اختیارات اس لئے محدود کئے تھے تا کہ حمزہ شہباز انتظامی اقدامات سے اپنی سیاسی جماعت کے فائدہ نہ پہنچا سکیں۔
عبوری حکم کے مطابق عدالت نے فریقین کو تجویز دی کہ حمزہ شہباز محدود اختیارات کیساتھ وزیر اعلی رہیں، ایک صوبے کو بغیر وزیراعلی اور کابینہ کے بغیر نہیں رکھا جا سکتا، حمزہ شہباز کو ٹرسٹی وزیر اعلی رکھنے پر کسی بھی فریق نے کوئی اعتراض نہیں کیا۔
عدالت کی جانب سے جاری کیے گئے حکم میں کہا گیا کہ درحقیقت فریقین معاملے کی حساسیت اور امن و عامہ، ہم آہنگی کی صورتحال کو سمجھ گئے اس لئے انہوں نے اعتراض نہیں کیا، عدالت کو یقین دلایا گیا ہے کہ فیصلے تک آئینی وفاداری کیساتھ حمزہ شہباز بطور وزیر اعلی اپنے اختیارات محدود رکھیں گے۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے تحریری حکم میں کہا کہ پنجاب حکومت اور ڈپٹی سپیکر اپنے اپنے بیانات اور دستاویزات 25 جولائی کو پیش کریں، ڈپٹی اسپیکر دوست مزاری تمام متعلقہ ریکارڈ عدالت میں پیش کرنے کو یقینی بنائیں۔
عبوری حکم میں مزید کہا گیا کہ چوہدری شجاعت حسین کا بطور پارٹی سربراہ لکھا ہوا خط بھی آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش کیا جائے اور 25 جولائی کو دوپہر 1 بجے کیس کی مزید سماعت کی جائے گی۔
حمزہ شہباز پیر تک بہ طور ٹرسٹی وزیر اعلی کام کریں گے، سپریم کورٹ
اس سے قبل سپریم کورٹ لاہوررجسٹری میں وزیراعلی پنجاب کے انتخاب میں مسلم لیگ ق کے 10 ووٹ شمارنہ کرنے کے خلاف درخواست پرسماعت کرتے ہوئےعدالت نے وکیل دوست مزاری سے پوچھا کہ آپ ڈپٹی اسپیکرکی رولنگ کا دفاع کس بنیاد پرکررہے ہیں؟ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے جواب دیا کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے کی بنیاد پر ہم دفاع کر رہے ہیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ 17 مئی کے فیصلے پرنظر ثانی نہیں کریں گے، ہمارے پاس 17 مئی والا آرڈر ابھی یہاں چیلنج نہیں ہوا ہے۔ ڈپٹی اسپیکر نے سپریم کورٹ کے آرڈر کی آڑ لے کر ووٹ شمارنہیں کیے، وہ حصہ بتائیں کہاں ہے؟ چیف جسٹس عمرعطابندیال نے کہا کہ آپ بڑے سینئر وکیل ہیں آپ کو پتا ہوگا کہ اسپیکرنے فیصلے سے کہاں سے اخذ کیا؟
جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ پارلیمنٹری پارٹی کی ہدایت کیخلاف ووٹ دے گا وہ شمار نہیں ہوگا۔ ڈپٹی اسپیکرنے پیرا 3 پرانحصارکرکے کیا سمجھا ہے؟ وکیل عرفان قادرنے دلائل دیے کہ ڈپٹی اسپیکرنے سمجھا ہے کہ پارٹی سربراہ ہی پارلیمنٹری پارٹی کی سربراہی بھی کرتے ہیں۔ چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ اگربالفرض ڈپٹی اسپیکرغلط سمجھے تو نتائج کیا ہوں گے؟