حکومت(Government) نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے دوران ملک بھر میں 20 لاکھ نئی ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے کا ہدف مقرر کر دیا ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق روزگار کے نئے مواقع مختلف معاشی شعبوں میں پیدا کیے جائیں گے تاکہ بے روزگاری میں کمی اور اقتصادی سرگرمیوں میں اضافہ ممکن بنایا جا سکے۔
دستاویز کے مطابق حکومت کا دعویٰ ہے کہ 30 جون کو ختم ہونے والے رواں مالی سال کے دوران تقریباً 18 لاکھ ملازمتوں کے مواقع پیدا کیے گئے۔ حکام کے مطابق معاشی استحکام، ترقیاتی منصوبوں اور مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے نتیجے میں روزگار کے مواقع میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق آئندہ مالی سال میں سب سے زیادہ روزگار خدمات کے شعبے میں پیدا ہونے کی توقع ہے، جہاں 11 لاکھ نئی ملازمتوں کے مواقع سامنے آئیں گے۔ اسی طرح صنعتی شعبے میں 5 لاکھ جبکہ زرعی شعبے میں 4 لاکھ نئی ملازمتوں کے مواقع پیدا ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
مزیدپڑھیں:چوہدری نثار علی خان کی اسلام آباد میں کامیاب سرجری
دستاویز میں کہا گیا ہے کہ روزگار پیدا کرنے کا بڑھتا ہوا رجحان وسیع البنیاد، جامع اور روزگار دوست معاشی نمو کو تقویت دے گا۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ مختلف معاشی شعبوں میں ترقی نہ صرف قومی پیداوار میں اضافہ کرے گی بلکہ نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے دروازے بھی کھولے گی۔
حکام کے مطابق وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے جاری مختلف روزگار پروگرامز، فنی تربیت کے منصوبے اور کاروباری معاونت کی اسکیمیں لیبر مارکیٹ کو مزید مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہو رہی ہیں۔ ان پروگرامز کے ذریعے نوجوانوں کو جدید تکنیکی مہارتیں فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ وہ مقامی اور بین الاقوامی منڈی کی ضروریات کے مطابق روزگار حاصل کر سکیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ روزگار کے مقررہ اہداف کے حصول کے لیے معاشی ترقی کی رفتار برقرار رکھنا، نجی سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور صنعتی سرگرمیوں میں اضافہ ناگزیر ہوگا۔ ان کے مطابق اگر حکومتی منصوبے مؤثر انداز میں نافذ کیے گئے تو ملک میں روزگار کے مواقع میں نمایاں اضافہ ممکن ہو سکتا ہے۔









