حکومت نے قومی بچت اسکیموں(National Savings Schemes) پر منافع کی نئی شرحوں کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کے تحت مختلف سیونگ اسکیموں کے منافع میں ردوبدل کیا گیا ہے۔
نئی شرحوں کا اطلاق فوری طور پر ہوگا اور سرمایہ کاروں کو ان اسکیموں کے تحت تازہ منافع دیا جائے گا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق ریگولر انکم سرٹیفکیٹ (RIC) پر منافع کی شرح 12.24 فیصد مقرر کی گئی ہے، جبکہ خصوصی بچت اکاؤنٹس (Special Saving Accounts) پر اوسطاً 12.40 فیصد منافع دیا جائے گا۔
حکومت نے بہبود سیونگ سرٹیفکیٹ، پنشنرز بینیفٹ اکاؤنٹس اور شہدا فیملی ویلفیئر اکاؤنٹس پر منافع کی شرح 13.20 فیصد برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، جس سے ان اسکیموں میں سرمایہ کاری کرنے والے افراد کو بدستور زیادہ منافع حاصل ہوتا رہے گا۔
شارٹ ٹرم سیونگز سرٹیفکیٹس کی شرح منافع میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق 3 ماہ کی مدت کے سرٹیفکیٹس پر منافع کی شرح 11.40 فیصد، 6 ماہ کی مدت کے لیے 11.66 فیصد جبکہ ایک سال کی مدت کے لیے 11.77 فیصد مقرر کی گئی ہے۔
سروا اسلامک سیونگ اکاؤنٹ کے منافع میں بھی تبدیلی ،ایک سال اور دو سال کی مدت کے سروا اسلامک سیونگ اکاؤنٹس پر منافع کی شرح 11.88 فیصد مقرر کی گئی ہے۔
حکومت نے ایک سال سے 10 سال تک کی مدت کے تمام ڈیفنس سیونگ سرٹیفکیٹس پر بھی منافع میں اضافہ کر دیا ہے، جس سے طویل المدتی سرمایہ کاری کرنے والوں کو بہتر ریٹرن ملنے کی توقع ہے۔
ٹیکس کے حوالے سے نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ فائلرز کے لیے نیشنل سیونگز اکاؤنٹس پر 15 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس برقرار رکھا گیا ہے، جبکہ نان فائلرز کے لیے ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 30 فیصد کر دی گئی ہے۔
مزید برآں نیشنل سیونگز اکاؤنٹس پر قابل اطلاق شرائط کے تحت 2.50 فیصد شرح سے زکوٰۃ کی کٹوتی بھی کی جائے گی۔
مزید پڑھیں:وفاقی حکومت کا بجٹ عاشورہ محرم سے قبل منظور کرانے کا ہدف مقرر
ماہرین کے مطابق نئی شرحوں کا مقصد سرمایہ کاروں کو بچت اسکیموں کی جانب راغب کرنا اور بدلتی معاشی صورتحال کے مطابق منافع کی شرحوں کو متوازن بنانا ہے۔









