بہت سے لوگ مصروف ہفتے کے بعد ویک اینڈ پر دیر تک سونے(Sleeping) کو تھکن اتارنے اور نیند پوری کرنے کا بہترین طریقہ سمجھتے ہیں، لیکن ماہرینِ نیند کے مطابق یہ عادت پیر کے روز مزید تھکاوٹ اور سستی کا سبب بن سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہفتے اور اتوار کو معمول سے کہیں زیادہ دیر تک سونا جسم کے قدرتی نیند و بیداری کے نظام، جسے سرکیڈین ردھم (Circadian Rhythm) کہا جاتا ہے کو متاثر کرتا ہے، اس کے نتیجے میں جسم کے لیے دوبارہ معمول کے شیڈول پر آنا مشکل ہو جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق دماغ نیند کو بینک اکاؤنٹ کی طرح نہیں سمجھتا کہ ہفتے بھر کی کمی کو بعد میں ایک ساتھ پورا کر لیا جائے، نیند کے اوقات میں اچانک تبدیلی جسمانی گھڑی کو الجھا دیتی ہے اور نیند کے معیار پر بھی منفی اثر ڈالتی ہے۔
محققین اس کیفیت کو سوشل جیٹ لیگ کا نام دیتے ہیں، جو اس وقت پیدا ہوتی ہے جب کسی شخص کے ویک اینڈ اور ورکنگ ڈیز کے سونے جاگنے کے اوقات میں بڑا فرق ہو۔
مثال کے طور پر اگر کوئی شخص ہفتے کے دنوں میں صبح 7 بجے اٹھتا ہے لیکن اتوار کو 11 بجے تک سوتا رہتا ہے تو رات کو مقررہ وقت پر نیند آنے میں دشواری ہو سکتی ہے، نتیجتاً وہ پیر کی صبح زیادہ دیر سونے کے باوجود خود کو تھکا ہوا محسوس کر سکتا ہے۔
مزیدپڑھیں:پنجاب کا ترقیاتی بجٹ 1450 سے کم کرکے 752 ارب کردیا گیا، 3560 منصوبے شامل
ماہرین کے مطابق سوشل جیٹ لیگ کے اثرات میں ذہنی دھندلاہٹ، توجہ میں کمی، معلومات سمجھنے میں دشواری اور چوکنا پن کم ہونا شامل ہیں۔
تحقیقی مطالعات سے معلوم ہوا ہے کہ مناسب نیند لینے کے ساتھ ساتھ اس کا باقاعدہ شیڈول برقرار رکھنا بھی انتہائی ضروری ہے، سونے اور جاگنے کے غیر مستقل اوقات یادداشت، توجہ اور دماغی کارکردگی کو متاثر کر سکتے ہیں۔
ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ ویک اینڈ پر معمول کے وقت سے زیادہ سے زیادہ ایک گھنٹہ اضافی سونا بہتر ہے، اگر ہفتے بھر نیند کی کمی رہی ہو تو دیر تک سونے کے بجائے رات کو جلد سونے کی کوشش زیادہ فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔
صحت کے ماہرین صبح کے وقت قدرتی دھوپ میں کچھ وقت گزارنے کا بھی مشورہ دیتے ہیں، کیونکہ یہ جسم کی اندرونی گھڑی کو منظم رکھنے اور نیند کے معمولات کو بہتر بنانے میں مدد دیتی ہے۔
ماہرین کے مطابق جو لوگ پورے ہفتے نیند کا ایک مستقل شیڈول برقرار رکھتے ہیں، وہ پیر کے روز زیادہ تازہ دم، متحرک اور ذہنی طور پر چست محسوس کرتے ہیں۔









