بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

وفاقی کابینہ میں ردوبدل،کابینہ کے انضمام ، ڈار کووزیرخزانہ بنانے کی تیاریاں

اسلام آباد(طارق محمود سمیر) وفاقی بجٹ کی منظوری کے بعد حکومت کی جانب سے وفاقی کابینہ(Cabinet) میں وسیع پیمانے پر تبدیلیوں اور تنظیمِ نو کی تیاری کی جا رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق متعدد اہم وزارتوں میں ردوبدل، کابینہ کے حجم میں کمی اور بعض وزارتوں کے انضمام پر سنجیدگی سے غور جاری ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو وزارت خزانہ کا قلمدان سونپے جانے کا امکان ہے، جبکہ نائب وزیراعظم کا عہدہ بھی ان کے پاس برقرار رہے گا۔

وزارت خارجہ کے لیے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا نام زیر غور ہے اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کے طور پر اپنی ذمہ داریاں بھی جاری رکھیں گے۔ وزارت داخلہ کے لیے سینیٹر رانا ثناء اللہ اور وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کے ناموں پر غور کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق رانا ثناء اللہ کو مشیر کے عہدے سے وفاقی وزیر کے منصب پر لایا جا سکتا ہے ۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ حکومت وفاقی کابینہ کا حجم کم کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے اور وزارتوں و ڈویژنز کی مجموعی تعداد 32 تک محدود کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔ اس سلسلے میں بعض وزارتوں کے انضمام پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق وزارتِ بحری امور کو وزارتِ دفاع میں ضم کرنے کی تجویز زیر غور ہے، جبکہ وزارتِ دفاعی پیداوار کو بھی وزارتِ دفاع کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔ اسی طرح وزارتِ ثقافت کو ختم کرکے اس کے امور وزارتِ اطلاعات و نشریات کے سپرد کیے جانے کی تجویز ہے۔

مزیدپڑھیں:والدین سے متعلق افواہوں سے متاثر ہوتی ہوں، ٹینا آہوجا

ذرائع کے مطابق اینٹی نارکوٹکس ڈویعن کو باقاعدہ طور پر وزارتِ داخلہ کے تحت لایا جائے گا، جبکہ پوسٹل سروسز کو وزارتِ مواصلات میں ضم کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ وزارتِ قانون و انصاف اور وزارتِ انسانی حقوق کو ایک وزارت کی شکل دینے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ غیر اہم وزارتوں میں وزرائے مملکت کی تعداد کم کی جا سکتی ہے، جبکہ خزانہ، داخلہ اور قانون و انصاف جیسی اہم وزارتوں میں وزرائے مملکت برقرار رہنے کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق کابینہ کے ارکان کی کارکردگی کا جائزہ لینے کا عمل جاری ہے اور کمزور کارکردگی دکھانے والے وزرا کو تبدیل کرکے نئے چہروں کو موقع دیے جانے کا امکان ہے۔

بہتر کارکردگی کے حامل وزرا کو اہم ذمہ داریاں سونپنے یا ان کی حیثیت میں اضافہ بھی زیر غور ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومتی پالیسی اور بیانیے سے اختلاف رکھنے والے بعض وزرا کی کابینہ سے رخصتی کا امکان بھی موجود ہے۔ اس حوالے سے مختلف وزرا کی غیر رسمی گفتگو اور آراء کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق نئی وفاقی کابینہ آئندہ تقریباً ڈھائی برس کے لیے تشکیل دی جائے گی اور اس کے بعد مزید بڑے پیمانے کی تبدیلیوں کا امکان کم ہوگا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مجوزہ ردوبدل کا مقصد آئندہ عام انتخابات کی تیاری اور حکومتی کارکردگی کو مزید مؤثر بنانا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف، وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ دیگر اہم حلقوں سے بھی مشاورت کا عمل متوقع ہے۔