بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

افغانستان کی درآمدات کا بوجھ روپے کی قدر میں کمی کی بڑی وجہ

کراچی ( مانیٹرنگ ڈیسک) روپے کی قدر میں کمی کی بڑی وجہ افغانستان کی درآمدات کا بوجھ بھی ہے ، افغانستان کی تمام درآمدات کے لئے پاکستانی زر مبادلہ کے ذخائر استعمال ہو رہے ہیں، ماہانہ 2ارب ڈالر کے قریب اس اضافی بوجھ سے بھی روپے پر دباؤ بڑھ رہا ہے ، اور روپے کی قدر کم ہو رہی ہے۔ یہ انکشاف پاکستان کرنسی ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ملک بوستان نے جنگ سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انھوں نے روپے کی قدر میں کمی کی وجوہات بیان کرتے ہوئے بتایا کہ پیٹرولیم مصنوعات کے درآمدی بل میں بے پناہ اضافے،سیاسی عدم استحکام کے ساتھ درآمدات میں ہونے والا اضافہ بھی روپے کی قدر میں کمی کی وجہ ہے ،ملک بوستان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں بینکنگ سسٹم موجود نہیں ،ان کے زرمبادلہ کے ذخائر بھی منجمد ہیں لیکن حکومت پاکستان نے انھیں پاکستان سے روپے میں خریداری کی اجازت دے رکھی ہے جس کا بوجھ ہماری زرمبادلہ کے ذخائر پر پڑ رہا ہے ،افغانستان کے لئے تمام اناج ،چائے کی پتی سمیت کھانے پینے کی تمام اشیاء پاکستانی امپورٹرز منگوا کر انھیں فروخت کر رہے ہیں ، ایک سوال پر انھوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ افغانستان کے درآمد کندگان اپنی ضرورت کے لئے پاکستانی درآمد کندگان سے رابطہ کرتے ہیں جس پر پاکستانی درآمد کندہ ڈالر میں ان کی ضرورت کے مطابق مصنوعات درآمد کر کے انھیں دے دیتا ہے وہ اسے افغانستان ایکسپورٹ کر کے پاکستانی درآمد کندہ کو روپے میں ادائیگی کر دیتا ہے اس طرح افغانستان کی تمام درآمدات کا بوجھ ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر پر ہے ،افغانستان کے لئے درآمدات کا تخمینہ 2 ارب ڈالر ماہانہ ہے ، ملک بوستان نے بتایا کہ ہم نے وفاقی وزیر خزانہ کے سامنے چند روز قبل یہ مسئلہ اٹھا چکے ہیں۔