اسلام آباد، پاکستان بھر میں گھریلو صارفین کو ایل پی جی (LPG Overcharging)کی قیمتوں میں شدید اوور چارجنگ کا سامنا ہے، جہاں گیس مقررہ سرکاری نرخوں سے تقریباً دوگنی قیمت پر فروخت ہو رہی ہے۔
اس سنگین صورتحال پر سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے بھی حکومت کی انرجی پالیسی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اطلاعات کے مطابق آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے جون کے مہینے کے لیے ایل پی جی کی سرکاری قیمت 309 روپے فی کلو مقرر کر رکھی ہے۔

لیکن اس کے برعکس ملک بھر میں گھریلو صارفین سے 600 روپے فی کلو سے بھی زائد وصول کیے جا رہے ہیں، یعنی صارفین سے فی کلو تقریباً 300 روپے اضافی بٹورے جا رہے ہیں۔
عوام پر روزانہ 1.8 ارب روپے کا اضافی بوجھ ڈالا جا رہا ہے، انڈسٹری ذرائع کا کہنا ہے کہ سپلائی کی کمی کے خوف کا فائدہ اٹھا کر ہول سیلرز نے قیمتوں میں اندھا دھند اضافہ کیا، جس سے صارفین کو مجموعی طور پر 60 سے 70 ارب روپے کا ٹیکہ لگ چکا ہے۔
ملک میں توانائی کے اس بحران اور مہنگائی پر سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر گیس کی قیمتوں میں انتہائی کمی کے باوجود پاکستان میں گیس کی قیمتوں میں کمی نہیں کی گئی۔
مزید پڑھیں:شہباز شریف، امیرِ قطر کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، مذاکرات پر اظہار اطمینان
حکومت گیس اور تیل پر بھاری ٹیکس لگا کر پیسے کمانے کی بجائے انرجی کی قیمتوں میں فوری کمی کرے، تاکہ ملک میں انڈسٹری اور زراعت کا پہیہ چل سکے، جب یہ شعبے چلیں گے تو حکومت کو ٹیکس بھی آئے گا اور عوام کو روزگار بھی ملے گا۔








