بھارتی ریاست راجستھان(Rajasthan) کے ضلع پالی میں برسوں پرانی شاہی روایت ٹوٹ گئی ہے جہاں ایک 13 سالہ لڑکی کو باقاعدہ طور پر ایک روایتی شاہی خاندان (Royal Family)کا وارث قرار دیا گیا ہے۔
راجستھان کی تاریخ میں یہ اپنی نوعیت کا ایک منفرد اور بڑا قدم ہے کیونکہ اس سے پہلے ہمیشہ مردوں کو ہی خاندان کا وارث بنایا جاتا تھا۔

یہ تقریب کھیروا گڑھ قلعے میں منعقد ہوئی، جو 17ویں صدی کا تاریخی مقام سمجھا جاتا ہے۔ تقریب میں سینکڑوں دیہاتیوں نے شرکت کی۔
اس تقریب میں تیرہ سالہ تیجسوی کماری جودھا کو ان کے والد ہریش چندر جودھا کے مرنے کے بعد کھیروا گڑھ خاندان کا نیا وارث تسلیم کیا گیا۔
اس روایتی رسم کے دوران مذہبی منتر پڑھے گئے اور تیجسوی کو سب کے سامنے بٹھایا گیا۔ بعد میں ان کے سر پر روایتی گلابی پگڑی رکھی گئی، جو اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ اب وہ سوگ کے مرحلے سے نکل کر ذمہ داری سنبھال رہی ہیں اور ماتھے پر تلک لگایا گیا۔
یہ پگڑی جودھپور مارواڑ کے سابق شاہی خاندان کی طرف سے بھیجی گئی تھی، کیونکہ یہ علاقہ پرانے زمانے میں جودھپور سلطنت کا حصہ تھا۔ اس رسم کے تحت خاندان کے سربراہ کے مرنے کے بعد گھر کی چابی اور ذمہ داری نئے وارث کو سونپی جاتی ہے، مگر تاریخ میں پہلی بار یہ پگڑی کسی لڑکی کو پہنائی گئی ہے۔
مزیدپڑھیں:کمپنی کو ‘بریک اَپ’ کرانے والے افسر کی تلاش، تنخواہ 8 لاکھ روپے سے زائد
علاقے کے بزرگوں کا کہنا ہے کہ تیجسوی کے والد کا کوئی بیٹا نہیں تھا، اس لیے سب نے مل کر یہ فیصلہ کیا۔ اس خاندان میں پچھلے65 سال سے یہ رسم اسی لیے نہیں ہوئی تھی کیونکہ خاندان میں کوئی مرد وارث موجود نہیں تھا۔
مقامی لوگوں نے اس فیصلے کو بہت سراہا اور اسے بدلتے وقت کی ایک اچھی علامت قرار دیا جہاں پرانی روایات کو بھی برقرار رکھا گیا اور لڑکیوں کو برابری کا حق بھی دیا گیا۔
تیجسوی ابھی ساتویں جماعت کی طالبہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنی پڑھائی جاری رکھیں گی اور اس کے ساتھ ساتھ ان پر جو نئی ذمہ داریاں ڈالی گئی ہیں، انہیں بھی پورا کریں گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ اپنے والد کے اس خواب کو پورا کرنے کی کوشش کریں گی جو انہوں نے گاؤں کی ترقی کے لیے دیکھا تھا۔








