بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

یورپ میں گرمی کا قہر: پیرس فیشن ویک میں ہیٹ ویو نے تباہی مچا دی

یورپ میں جاری حالیہ شدید ترین ہیٹ ویو(Heatwave) نے پیرس فیشن ویک کے رنگ میں بھنگ ڈال دیا۔ شدید گرمی اور حبس کے باعث جہاں کئی شوز کے مقامات پر ایئر کنڈیشننگ کا نظام فیل ہو گیا، وہیں پینے کے پانی کی بھی شدید قلت دیکھی گئی۔

اس صورتحال نے یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا عالمی فیشن انڈسٹری بدلتے ہوئے موسموں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے یا نہیں؟

فیشن ویک کے دوران انتظامیہ کی جانب سے مہمانوں کو گرمی سے بچانے کے لیے منفرد طریقے اپنائے گئے۔ شو میں آنے والے معروف برانڈز کے مہمانوں کی تواضع چاندی کی پلیٹوں میں رکھی آئسڈ ایوان واٹر، برف کے پیکٹس اور مسٹ مشینوں سے کی گئی، لیکن یہ تمام انتظامات ناکافی ثابت ہوئے۔

ایک برطانوی فیشن نقاد بین فری مین نے صورتحال بیان کرتے ہوئے کہا، ’میں نے سوچ لیا تھا کہ میں بے ہوش ہو جاؤں گا۔‘ ان کے مطابق گرمی اتنی زیادہ تھی کہ برداشت مشکل ہو گیا تھا۔

۔
اس ہفتے پیرس میں کئی فیشن ہاؤسز نے کوشش کی کہ مہمانوں کو کسی طرح ٹھنڈا رکھا جائے، مگر بعض مقامات پر پانی کم پڑ گیا اور ہوا کا نظام بھی ناکافی رہا۔ دلچسپ اور متضاد صورتحال اس وقت دیکھنے کو ملی جب اس شدید گرمی میں ماڈلز کو ریمپ پر چمڑے، نیوپرین اور اون سے بنے بھاری ملبوسات پہن کر واک کرنی پڑی۔

مزیدپڑھیں:کروڑوں کے زیورات کی ڈکیتی؛ ماسٹر مائنڈ بھارتی فضائیہ کا اہلکار نکلا

شو دیکھنے آئے فیشن کے طالب علم تھامس لیوی نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ’مجھے سمجھ نہیں آتا کہ اس شدید تپش میں ماڈلز نے لیدر اور بھاری وول کے کوٹ پہن کر کیسے واک کی۔ ایسا لگتا ہے کہ ڈیزائنرز گرمی کا حل صرف اسٹیج اور ہال تک محدود رکھتے ہیں، کپڑوں میں نہیں۔‘


گرمی کی شدت کے پیش نظر ’ڈائر‘ سمیت کئی بڑے برانڈز نے اپنے شوز کے اوقات کار دوپہر کے بجائے صبح 9 بجے منتقل کر دیے، تاہم ہالز میں اے سی نہ ہونے کے باعث حبس برقرار رہا اور کئی مہمانوں کی طبیعت ناساز ہو گئی۔


مشہور فیشن ڈیزائنر جوناتھن اینڈرسن نے اس صورتحال پر کہا، ’یہ کیلنڈر سمجھ میں نہیں آتا۔‘ ان کے مطابق یہ شوز ’اسپرنگ سمر‘ کے نام پر ہوتے ہیں لیکن عالمی مارکیٹ اور امیر طبقے کی مانگ کے باعث ان میں سردیوں کے بھاری کپڑے پیش کیے جاتے ہیں، کیونکہ ان کے خریدار زیادہ تر وقت اے سی والے ماحول میں گزارتے ہیں۔

فیشن ویک میں کچھ ڈیزائنرز نے گرمی کو ہی انداز کا حصہ بنانے کی کوشش کی۔ سینٹ لورینٹ کے شو میں دھند اور بھاپ کے اثرات استعمال کیے گئے، جبکہ ماڈلز ہلکے اور نرم کپڑوں میں نظر آئے۔ لیکن اسی شو میں کچھ بھاری اور چمڑے کے لباس بھی پیش کیے گئے، جو گرمی کے باوجود فیشن کے انداز کو برقرار رکھنے کی کوشش لگ رہے تھے۔

فرانس کی ’ہاؤٹ کواٹیو فیشن فیڈریشن‘ کے سربراہ پاسکل مورانڈ کا کہنا ہے کہ وہ حکومتی ہیٹ ویو پلان پر عمل کر رہے ہیں اور بدلتے ہوئے موسمی حالات کے مطابق فیشن ویک کے تجربے کو محفوظ بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔

واضح رہے کہ صرف فیشن ویک ہی نہیں، بلکہ پیرس کا تاریخی عجائب گھر ’لوور‘ بھی شدید گرمی کی وجہ سے اپنے اوقات کار تبدیل کرنے پر مجبور ہو چکا ہے، کیونکہ پرانی عمارتیں اس شدید ہیٹ ویو کا مقابلہ کرنے کے لیے ڈیزائن نہیں کی گئیں۔