اسلام آباد (نیوز رپورٹر)چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار، سینیٹر محمد عبدالقادر(abdulqadir) نے اپنے ایک خصوصی بیان میں کہا ہے کہ داسو ہائیڈرو پاور، دیامر بھاشا ڈیم اور نیلم جہلم ہائیڈرو پاور منصوبوں میں ناقص منصوبہ بندی، مالی نظم و نسق اور انتظامی نگرانی کی سنگین خامیوں کے باعث قومی خزانے پر سینکڑوں ارب روپے کے اضافی مالی بوجھ کا خدشہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ منصوبوں کی لاگت میں غیر معمولی اضافہ، طویل تاخیر اور کمزور عملدرآمد کے باعث قومی وسائل پر شدید دباؤ پڑا ہے، جبکہ صرف مالی سال 2024-25 کے دوران 358 ارب روپے سے زائد کا براہِ راست مالی نقصان برداشت کرنا پڑا۔

سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا کہ داسو ہائیڈرو پاور منصوبے کی لاگت ابتدائی تخمینے کے مقابلے میں 257 فیصد تک بڑھ چکی ہے۔ اسی طرح دیامر بھاشا ڈیم میں زمین کے حصول، متاثرین کی آبادکاری اور بجلی پیدا کرنے کے منصوبے مالی اور انتظامی رکاوٹوں کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ ڈیم کی تعمیر جاری ہے، تاہم بجلی پیدا کرنے کے منصوبے کی تکمیل کے لیے مزید 1,424 ارب روپے درکار ہیں، جس سے مجموعی لاگت میں نمایاں اضافہ ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ نیلم جہلم ہائیڈرو پاور منصوبہ سرنگوں کے انہدام، پلانٹ کی بندش، انشورنس کلیمز اور ٹیرف کی منظوری میں تاخیر کے باعث مسلسل مالی خسارے کا شکار ہے، جس کے نتیجے میں بجلی کی پیداوار اور منصوبے کا مالی استحکام دونوں شدید متاثر ہوئے ہیں۔
مزیدپڑھیں:ڈان 3 تنازع، سنیل شیٹی، رنویر سنگھ کی حمایت میں سامنے آگئے
چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار نے کہا کہ متعدد بے ضابطگیاں، غیر مجاز ادائیگیاں، بار بار ڈیزائن میں تبدیلیاں، کمزور لاگت کنٹرول اور منصوبہ بندی میں خامیاں اس بحران کی بنیادی وجوہات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے منصوبوں کی نگرانی، شفافیت اور احتساب کے نظام کو مؤثر نہ بنایا تو قومی ترقی کے یہ اہم منصوبے معیشت پر مزید مالی بوجھ کا باعث بن سکتے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں میں بہتر منصوبہ بندی، بروقت فیصلے، مؤثر نگرانی اور سخت مالی نظم و ضبط کو قومی ترجیح بنایا جائے تاکہ عوامی وسائل کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے اور قومی سرمایہ کاری سے زیادہ سے زیادہ معاشی فوائد حاصل ہوں۔








