کوئٹہ ، بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے علاقے کچلاک بائی پاس پر نامعلوم مسلح ملزمان نے اندھا دھند فائرنگ کر کے ہوٹل انڈسٹری اور افغان ٹرانزٹ کے ممتاز تاجر محمد ہاشم نورزئی کو قتل کر دیا۔
واقعے کے بعد کوئٹہ کی تاجر برادری میں شدید تشویش اور غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ پولیس کے مطابق یہ واقعہ تھانہ کچلاک کی حدود میں بلیلی روڈ کچلاک بائی پاس پر عثمانیہ ہوٹل کے قریب پیش آیا جہاں وزیر آباد کچلاک کے رہائشی ممتاز تاجر محمد ہاشم نورزئی اپنی ذاتی گاڑی میں گھر سے کوئٹہ شہر کی طرف جا رہے تھے۔

راستے میں موٹر سائیکل پر سوار 3 سے 4 نامعلوم مسلح افراد نے ان کا راستہ روکا اور گاڑی پر اندھا دھند گولیاں برسا دیں، حملہ آور واردات کے بعد باآسانی فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔
عینی شاہدین نے پولیس کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھاتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ فائرنگ کے واقعے کے تقریباً ایک گھنٹے بعد پولیس جائے وقوعہ پر پہنچی، اس مجرمانہ تاخیر کے دوران شدید زخمی تاجر تڑپ تڑپ کر دم توڑ چکا تھا۔
مقتول کی لاش کو پولیس کے بجائے ان کے ایک قریبی دوست نے اپنی مدد آپ کے تحت سول ہسپتال منتقل کیا، ڈاکٹروں کے مطابق مقتول محمد ہاشم نورزئی کو 3 گولیاں لگیں، دو گولیاں بازوؤں پر جبکہ ایک گولی سر میں لگی جو جان لیوا ثابت ہوئی۔
واضح رہے کہ محمد ہاشم نورزئی کوئٹہ کے ایک نجی ہوٹل کے مالک تھے اور ہوٹل انڈسٹری کے علاوہ افغان ٹرانزٹ تجارت اور دیگر بڑے کاروباری شعبوں سے وابستہ تھے، وہ چیمبر آف کامرس اور تجارتی حلقوں میں انتہائی بااثر اور محترم سماجی شخصیت مانے جاتے تھے۔
ابتدائی طور پر قتل کے محرکات سامنے نہیں آ سکے، مقتول کے اہل خانہ اور قریبی رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ محمد ہاشم نورزئی کی کسی کے ساتھ کوئی ذاتی دشمنی یا عناد نہیں تھا۔پولیس ترجمان نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقتول کی گاڑی پر گولیوں کے متعدد نشانات موجود ہیں۔
مزید پڑھیں:
پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اور گولیوں کے خول قبضے میں لے کر سی سی ٹی وی فوٹیجز کی مدد سے قاتلوں کی تلاش شروع کر دی ہے، دوسری جانب تاجر رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ پورے کاروباری طبقے کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے اور حکومت تاجروں کو تحفظ فراہم کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔








