بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

امریکا اور ایران کشیدگی کے بعد تیل کی عالمی مارکیٹ میں ہلچل! قیمتیں اچانک بڑھ گئیں

عالمی توانائی مارکیٹ میں پیر کے روز خام تیل(Crude Oil) کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا جس کی بنیادی وجہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری جوابی حملوں کا سلسلہ قرار دیا جا رہا ہے، ان واقعات نے دونوں ممالک کے درمیان قائم عارضی امن معاہدے کی کمزوری کو مزید نمایاں کر دیا ہے جبکہ آبنائے ہرمز کے راستے تیل کی ترسیل بھی ایک بار پھر متاثر ہوئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق برینٹ کروڈ فیوچرز کی قیمت میں 58 سینٹ یعنی 0.8 فیصد اضافہ ہوا جس کے بعد یہ 72.57 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی،اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کروڈ بھی 88 سینٹ یا 1.3 فیصد مہنگا ہوا اور 70.11 ڈالر فی بیرل کی سطح پر ٹریڈ کرتا رہا۔

اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ہفتے برینٹ کروڈ میں 10.6 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی تھی جو مسلسل تیسری ہفتہ وار کمی تھی،اسی دوران آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل میں اضافہ بھی دیکھا گیا اور یہ سطح فروری کے آخر میں شروع ہونے والی کشیدگی کے بعد بلند ترین رہی۔

مزیدپڑھیں:یورپ میں شدید گرمی کی لہر سے 1,300 سے زائد اموات، عالمی ادارۂ صحت کا انتباہ

 آئی این جی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی عالمی مارکیٹ اس وقت متعدد خطرات کی زد میں ہے تاہم سرمایہ کار اس پہلو پر نظر رکھے ہوئے ہیں کہ اگر عالمی سطح پر سپلائی میں بہتری آتی ہے تو اس کا مجموعی توازن پر کیا اثر پڑے گا، ان کے مطابق مارکیٹ میں موجود یہ غیر معمولی اطمینان خطرناک ثابت ہو سکتا ہے اگر سپلائی کی بحالی توقع سے سست روی کا شکار ہو جائے۔

ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال میں تیل کی ترسیل مختلف رکاوٹوں کا سامنا کر رہی ہے جن میں ٹینکرز کی تاخیر، انفراسٹرکچر کو پہنچنے والا نقصان اور بعض پیداواری بندشیں شامل ہیں، ان کا کہنا ہے کہ سپلائی کو مکمل طور پر معمول پر آنے میں ممکنہ طور پر سال کے آخر تک کا وقت لگ سکتا ہے