بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بھارتی آبی جارحیت کی وجہ سے ہمارے 6 ہزار لوگ جاں بحق ہو چکے، مصدق ملک

سندھ طاس معاہدے پر بین الاقوامی سیمینار وفاقی دارالحکومت اسلام آباد(Islamabad) کے جناح کنونشن سینٹر(Jinnah Convention Center) میں جاری ہے جس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت نہ صرف ہمارے پانی کے بہاؤ کو کنٹرول کرتا ہے بلکہ دنیا کا تیسرا بڑا آلودگی پھیلانے والا ملک بھی ہے، اور بھارت کی وجہ سے ہمارے 6 ہزار لوگ جاں بحق اور ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ 6 ہزار لوگ جنگوں میں بھی نہیں مرتے۔

سندھ طاس معاہدے کی اہمیت، آبی وسائل کے تحفظ اور علاقائی تعاون سے متعلق بین الاقوامی سیمینار میں وفاقی وزراء، سیاسی رہنما، ماہرین اور متعلقہ حکام شرکت کررہے ہیں۔

سیمینار کے افتتاحی سیشن سے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے خطاب کیا، انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں “سندھ طاس معاہدہ: امن اور علاقائی استحکام کا ایک اہم ذریعہ” کے موضوع پر سیمینار سے خطاب میرے لیے اعزاز ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج ہم ایک معاہدے پر نہیں بلکہ پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کی شہہ رگ پر بات کر رہے ہیں۔ وادی سندھ کی تہذیب ہی ہماری اصل شناخت ہے اور ہم اس عظیم تہذیب کے وارث ہیں، پاکستان کے لیے پانی صرف ایک قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ زندگی کا مسئلہ ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات نے کہا کہ ہزاروں برس سے دریائے سندھ کا نظام دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں سے ایک کی آبیاری کرتا آیا ہے، پاکستان کی تاریخ دراصل دریائے سندھ کی تاریخ ہے، زراعت قومی معیشت کا بنیادی ستون ہے اور دریائے سندھ اس کی شہہ رگ ہے، چھ دہائیاں قبل دو ممالک نے ایک غیر معمولی فیصلہ کیا۔

عطا اللہ تارڑ نے فیصلے کے نتیجے میں سب سے پائیدار آبی معاہدوں میں سے ایک وجود میں آیا، پاکستان نے ہمیشہ پُرامن روابط، تعمیری مذاکرات اور معاہدے پر مخلصانہ عملدرآمد کے عزم کا مظاہرہ کیا، پانی روکنے کی کوشش کی گئی تو قومی قیادت پاکستان کے عوام کا حق بحال کرنے اور مؤثر جواب دینے کے لیے پرعزم ہے۔

1960 کا سندھ طاس معاہدہ بین الاقوامی تعلقات میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے، پاکستانی قیادت بارہا واضح کر چکی ہے کہ پاکستان کے عوام کو دریائے سندھ کے پانی پر پورا حق حاصل ہے، بھارت نے اس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کیا، پاکستان ہر صورت اس معاہدے کے تقدس کا تحفظ کرے گا، آج ہمیں اس عزم کا اظہار کرنا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ برقرار رہے گا۔

اسلام آباد میں “سندھ طاس معاہدہ” کے موضوع پر بین الاقوامی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مہر علی شاہ نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ صرف ایک دستاویز نہیں بلکہ 24 کروڑ پاکستانیوں کی زندگی کا معاملہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے سے ہماری زراعت، خوراک اور معیشت جڑی ہوئی ہے، اور یہ معاہدہ دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی کے خاتمے اور امن کے لیے ہے۔

مزیدپڑھیں:پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے ترجمان محمد اکبرزادہ کی ٹریفک حادثے میں پراسرار موت

مہر علی شاہ کے مطابق معاہدے میں مسائل کے حل کا جامع طریقہ کار موجود ہے اور مجموعی طور پر اس میں 12 شقیں شامل ہیں، جبکہ فریقین کو دریاؤں کے بہاؤ سے متعلق معلومات فراہم کرنا لازمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر معاہدے کے تحت مسائل حل نہ ہوں تو معاملہ ثالث کے پاس جاتا ہے، اور شق 9 کے تحت معاملہ عالمی ثالثی عدالت کے پاس بھی لے جایا جا سکتا ہے۔

مہر علی شاہ نے کہا کہ پاکستان متنازع بھارتی بجلی گھر کے معاملات پر دو بار ثالثی عدالت سے رجوع کر چکا ہے، اور عالمی ثالثی عدالت دو بار معاہدے کی وضاحت بھی کر چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ثالثی عدالت واضح کر چکی ہے کہ بھارت معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل یا ختم نہیں کر سکتا، اور عدالت نے بھارت کو مغربی دریاؤں کے بہاؤ میں خلل نہ ڈالنے کی ہدایت بھی کی ہے۔

ان کے مطابق بھارت کا یکطرفہ طور پر معاہدے کو معطل کرنا خلاف ورزی ہے، جبکہ بھارت اگست 2023 سے معاہدے پر عمل نہیں کر رہا۔

وزیر موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پانی کی عدم دستیابی سے کسان زراعت چھوڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں، پانی کی عدم دستیابی سے صرف پاکستانی ہی نہیں بلکہ بنگلہ دیشی لوگ بھی متاثر ہو رہے ہیں، اور دریائے نیل ہو یا فرات ہر جگہ اسی قسم کی کہانیاں ہیں، پاکستان، افریقہ یا بنگلہ دیش ہر جگہ ایک جیسی صورتحال ہے۔

انہوں نے کہا کہ مرالہ ہیڈورکس پر ایک دن پانی بہت کم تو دوسرے دن سیلابی صورت میں بھارت سے آتا ہے، یہ ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ انصاف کا مسئلہ ہے کیونکہ پانی کے بہاؤ پر کنٹرول اصل مسئلہ ہے۔

مصدق ملک کے مطابق بھارت نہ صرف ہمارے پانی کے بہاؤ کو کنٹرول کرتا ہے بلکہ دنیا کا تیسرا بڑا آلودگی پھیلانے والا ملک بھی ہے، اور بھارت کی وجہ سے ہمارے 6 ہزار لوگ جاں بحق اور ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ 6 ہزار لوگ جنگوں میں بھی نہیں مرتے۔ انہوں نے کہا کہ اصل مسئلہ پانی کے بہاؤ کو کنٹرول کر کے اسے بطور ہتھیار استعمال کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ دنیا کے مضبوط ترین معاہدوں میں سے ایک ہے جو دو ہمسایہ ملکوں کے درمیان تین جنگوں میں بھی قائم رہا، اور اگر یہ معاہدہ قائم نہ رہا تو پھر دنیا کا کوئی بھی معاہدہ قائم نہیں رہ سکتا۔

انہوں نے کہا کہ کسی ایک ملک کو علاقائی اور عالمی امن کو یرغمال بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ ہم عالمی ثالثی عدالت سے بھی رجوع کر چکے ہیں، جو واضح فیصلے دے چکی ہے کہ کوئی ملک یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ معطل یا ختم نہیں کر سکتا، نہ ہی پانی کے بہاؤ کو یکطرفہ موڑا جا سکتا ہے، اور نہ ہی پاکستان کے حصے کے پانیوں پر ذخائر بنائے جا سکتے ہیں، تاہم بھارت ان فیصلوں کو تسلیم کرنے سے انکاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر یہ معاہدہ کامیاب نہیں ہوا تو پھر دنیا کے ہر نشیبی ملک کے حصے کا پانی روکا جائے گا، اور یہ صرف پاکستان نہیں بلکہ دنیا بھر کا مسئلہ ہے۔

سندھ طاس معاہدے پر بین الاقوامی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے عالمی ماہر قانون احمر بلال صوفی نے کہا کہ دنیا بھر میں پانی، ہوا اور خوراک کو بنیادی انسانی ضروریات قرار دیا جا چکا ہے، اور بھارت کا سندھ طاس معاہدے کو “غیر فعال” حالت میں رکھنا غیر قانونی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کو دیگر امور سے منسلک کر رہا ہے، جبکہ پہلگام واقعے کے بعد پاکستان کو معلومات اور تفتیش میں تعاون کے لیے تحریری طور پر رابطہ کرنا چاہیے تھا، لیکن بھارت نے قانونی راستہ اختیار کرنے کے بجائے کشیدگی اور جنگ کا راستہ اپنایا۔

انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر ایک تسلیم شدہ عالمی تنازعہ ہے، اور بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو معطل رکھنے کا معاملہ اقوام متحدہ میں بھی اٹھایا جا چکا ہے، جو اقوام متحدہ کے منشور کی خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ہر مسئلے کا قانونی پہلو موجود ہے، اور دونوں ممالک کے قانونی ماہرین کے درمیان مکالمے کی ضرورت ہے، جبکہ پاکستان عالمی قانون پر مکمل کاربند ہے۔