مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی انسانی سمجھ اور حکومتی قوانین سے آگے نکل گئی، اقوام متحدہ (United Nations)نے انتباہ جاری کر دیا۔
اقوام متحدہ کے آزاد بین الاقوامی سائنسی پینل نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI) کی ترقی سائنسی سمجھ بوجھ اور حکومتی پالیسیوں سے کہیں زیادہ تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے، جس کے باعث یہ یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ مستقبل میں یہ ٹیکنالوجی کسی بڑے یا تباہ کن نقصان کا سبب نہیں بنے گی۔

جنیوا میں جاری کیے گئے ابتدائی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومتوں کو مؤثر قانون سازی کے لیے مضبوط سائنسی شواہد درکار ہیں، تاہم AI کی برق رفتار ترقی کے باعث تحقیق اور پالیسی سازی اس کا ساتھ نہیں دے پا رہی۔
پینل کے شریک چیئرمین یوشوا بینجیو نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کی صلاحیتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں، جبکہ ایسے شواہد بھی سامنے آ رہے ہیں کہ بعض AI سسٹمز دھوکہ دہی پر مبنی رویہ اختیار کر سکتے ہیں۔ موجودہ سائنسی علم اس بات کی ضمانت نہیں دیتا کہ مستقبل میں AI خود یا بدنیتی پر مبنی استعمال کے ذریعے تباہ کن نتائج پیدا نہیں کرے گی۔
رپورٹ کے مطابق مستقبل قریب میں “ایجنٹک AI” سسٹمز سامنے آئیں گے، جو انسانی مداخلت کے بغیر حقیقی دنیا کے مختلف کام انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے جبکہ طویل مدت میں مصنوعی ذہانت خود کو بہتر بنانے، معیشت میں مزید گہرائی سے شامل ہونے اور کوانٹم کمپیوٹنگ و بایوٹیکنالوجی جیسی جدید ٹیکنالوجیز کے ساتھ یکجا ہونے کی جانب بڑھ سکتی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ AI پہلے ہی ریاضی اور سائنس جیسے شعبوں میں ماہرین کی سطح کی کارکردگی دکھا رہی ہے اور ادویات و ویکسین کی تیاری میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے تاہم ماہرین کے مطابق یہ ابھی واضح نہیں کہ اس سے حاصل ہونے والے معاشی فوائد روزگار اور عالمی اقتصادی ترقی پر کس حد تک مثبت یا منفی اثر ڈالیں گے۔
اقوام متحدہ کے ماہرین نے خبردار کیا کہ مصنوعی ذہانت کو غلط معلومات پھیلانے، مالی فراڈ، سائبر حملوں اور حیاتیاتی خطرات کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، جبکہ کئی ممالک کے پاس جدید AI سسٹمز کی نگرانی اور مؤثر ضابطہ بندی کی صلاحیت موجود نہیں۔
مزید پڑھیں:فیسکو، گیپکو نجکاری، سرمایہ کاروں کو بڑا ریلیف، درخواستوں کی تاریخ میں توسیع
اس موقع پر انتونیو گوتریس نے عالمی حکومتوں پر زور دیا کہ وہ AI کے مؤثر اور محفوظ استعمال کے لیے فوری اقدامات کریں۔ ان کا کہنا تھا، دنیا ایسی چیز کو مؤثر انداز میں منظم نہیں کر سکتی جسے وہ مکمل طور پر سمجھتی ہی نہ ہو۔ AI میں بے پن








