اسلام آباد: چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر (SENATOR ABDUL QADIR)نے کہا ہے کہ ملک بھر میں آٹے کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ اور کئی شہروں میں پیدا ہونے والی قلت نے عوام کی مشکلات میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے۔
چند ہفتے قبل متعدد شہروں میں 20 کلو آٹے کا تھیلا تقریباً 2,300 سے 2,500 روپے کے درمیان دستیاب تھا، مگر اب یہی تھیلا مختلف علاقوں میں 2,700، 2,800 اور کراچی میں 2,900 روپے تک فروخت ہو رہا ہے۔
یہ اضافہ عام آدمی کی قوتِ خرید پر براہِ راست حملہ ہے۔انہوں نے کہا کہ کراچی میں 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 2,900 روپے تک پہنچ چکی ہے، جو ملک میں سب سے زیادہ ہے، جبکہ اسلام آباد، کوئٹہ اور خضدار میں یہی تھیلا تقریباً 2,800 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔
پشاور، راولپنڈی، حیدرآباد، بنوں، سکھر، لاڑکانہ، ملتان، گوجرانوالہ، بہاولپور، سیالکوٹ، فیصل آباد، لاہور اور سرگودھا سمیت متعدد شہروں میں بھی آٹے کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔
جبکہ بعض علاقوں میں آٹے کی دستیابی بھی محدود ہو گئی ہے، جس سے شہری شدید پریشانی کا شکار ہیں۔سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا کہ گندم کی سپلائی میں رکاوٹ، ذخیرہ اندوزی، پیداواری لاگت میں اضافہ، ایندھن اور ٹرانسپورٹ کے بڑھتے ہوئے اخراجات، مارکیٹ میں غیر مؤثر نگرانی اور مصنوعی قلت آٹے کی قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجوہات ہیں۔
اگر ان عوامل پر فوری قابو نہ پایا گیا تو آنے والے دنوں میں قیمتوں میں مزید اضافہ اور قلت کے خدشات کو رد نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے کہا کہ کوئٹہ اور خضدار میں آٹے کی محدود دستیابی ایک خطرے کی گھنٹی ہے۔
جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بروقت اقدامات نہ ہونے کی صورت میں یہ بحران دیگر علاقوں تک بھی پھیل سکتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ گندم کے ذخائر کی مؤثر نگرانی کرے، ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کرے، گندم کی منصفانہ تقسیم یقینی بنائے اور فلور ملز کو گندم کی بروقت فراہمی کو یقینی بنائے تاکہ آٹے کی مسلسل فراہمی برقرار رہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آٹا ہر گھر کی بنیادی ضرورت ہے، اس لیے اس کی قیمت میں معمولی اضافہ بھی لاکھوں خاندانوں کے ماہانہ بجٹ کو شدید متاثر کرتا ہے۔ مہنگائی کے موجودہ طوفان میں کم آمدنی والے اور دیہاڑی دار طبقے کیلئے دو وقت کی روٹی کا انتظام بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں:ولیکا اسپتال ،HIVمتاثرہ بچوں کی طبیعت بگڑنے لگی، والدین پریشان
اگر حکومت نے فوری، مؤثر اور پائیدار اقدامات نہ کیے تو آٹے کا بحران نہ صرف غذائی تحفظ بلکہ معاشی اور سماجی استحکام کیلئے بھی سنگین چیلنج بن سکتا ہے۔سینیٹر محمد عبدالقادر نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر زور دیا کہ وہ اس صورتحال کو ہنگامی بنیادوں پر سنبھالیں، قیمتوں کو مستحکم کرنے، مصنوعی قلت کے خاتمے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے فوری اور مربوط حکمت عملی اختیار کریں تاکہ مزید مہنگائی اور عوامی مشکلات پر قابو پایا جا سکے۔








