اسٹاک مارکیٹ (Stock Market)میں نیا اکاؤنٹ کھلوانے کے لیے باربار بائیو میٹرک کی شرط ختم کردی گئی، صارفین کی شناخت اب بینک آئی بی اے این کے ذریعے بھی ممکن ہوگی۔
تفصیلات کے مطابق سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے کیپٹل مارکیٹ اور انشورنس خدمات تک رسائی مزید آسان بنانے کے لیے ڈیجیٹل “کے وائی سی” نظام متعارف کرا دیا، اس مقصد کے لیے اینٹی منی لانڈرنگ ریگولیشنز 2020 میں اہم ترامیم بھی کر دی گئی ہیں۔
ایس ای سی پی نے طتایا کہ نئے نظام کے تحت سرمایہ کاروں اور صارفین کی شناخت اب بینک آئی بی اے این کے ذریعے بھی ممکن ہوگی، جس سے اسٹاک مارکیٹ میں نیا اکاؤنٹ کھلوانے کے لیے بار بار بائیومیٹرک تصدیق اور اضافی تصدیقی دستاویزات فراہم کرنے کی ضرورت ختم ہو جائے گی۔
مزیدپڑھیں:کشمور : نہر میں ڈوب کر 3 کمسن بچیاں جاں بحق
کمیشن کا کہنا ہے کہ سیکیورٹیز بروکرز اور انشورنس کمپنیاں بھی صارفین کی تصدیق آئی بین کے ذریعے کر سکیں گی، جبکہ مالی لین دین صرف صارف کے اپنے تصدیق شدہ بینک اکاؤنٹ سے ہی ممکن ہوگا، جس سے شفافیت اور سیکیورٹی میں مزید اضافہ ہوگا۔
ایس ای سی پی نے بتایا کہ نئے ریگولیشنز میں جدید بائیومیٹرک تصدیق، بشمول چہرے کی شناخت کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ مزید برآں، نادرا کے بلاک شناختی کارڈز سے منسلک سرمایہ کاری اکاؤنٹس فوری طور پر بلاک کیے جا سکیں گے تاکہ مالیاتی نظام کو مزید محفوظ بنایا جا سکے۔
ایس ای سی پی کے چیئرمین ڈاکٹر کبیر سدھو کے مطابق جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے سرمایہ کاری کے عمل کو آسان، محفوظ اور شفاف بنایا جا رہا ہے، جبکہ ان اصلاحات سے مالیاتی شعبے میں ڈیجیٹلائزیشن اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بھی فروغ ملے گا۔








