وزیراعلی گلگت بلتستان امجد حسبین ایڈووکیٹ میڈیا سے گفتگو کررہے ہیں۔ وزارتوں پر آئی پی پی سے معاملات طے ہیں، عدم اعتماد آئی تو اپوزیشن میں بیٹھ جائیں گے، امجد حسین ایڈووکیٹ
وزیراعلیٰ گلگت بلتستان نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان کی نئی کابینہ آئندہ دو سے تین روز میں تشکیل دے دی جائے گی جبکہ بلدیاتی انتخابات اکتوبر سے قبل کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
امجد حسین ایڈووکیٹ نے کہا کہ انتخابات کے روز تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں اور شفاف ماحول فراہم کیا گیا، تاہم انتخابی عمل مکمل ہونے کے بعد بعض سیاسی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت سازی کے لیے آزاد ارکان اسمبلی سے بھی رابطے کیے گئے، تاہم تمام ارکان کو وزیر بنانا ممکن نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ کے انتخاب میں مسلم لیگ (ن) کے بعض ارکان نے بھی انہیں ووٹ دیا، جبکہ استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) کے ساتھ وزارتوں سے متعلق معاملات پہلے ہی طے ہو چکے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ گلگت بلتستان کے گورنر کا عہدہ مسلم لیگ (ن) کا حق ہے، جبکہ صوبائی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کا منصب بھی مسلم لیگ (ن) کے پاس ہوگا اور وہ اپوزیشن کا کردار ادا کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت عوامی مسائل کے حل کو اپنی اولین ترجیح بنائے گی اوراگرمستقبل میں ان کی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہوئی تو وہ جمہوری روایت کے مطابق اپوزیشن بینچوں پربیٹھ جائیں گے۔
امجد حسین ایڈووکیٹ نے کہا کہ 2016 میں چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے گلگت بلتستان میں حقِ ملکیت کی تحریک شروع کی، کیونکہ اس سے قبل یہاں کے عوام اپنی زمینوں کے ملکیتی حقوق سے محروم تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان میں گزشتہ تقریباً 20 برس سے بلدیاتی انتخابات نہیں ہوئے، اس لیے مقامی حکومتوں کا نظام بحال کرنا ناگزیر ہے۔
مزید پڑھیں:جی بی اے-15 دیامر1، آزاد امیدوار محمد دلپذیر کامیاب، حتمی نتیجہ جاری
انہوں نے اعلان کیا کہ بلدیاتی انتخابات اکتوبر سے پہلے کرائے جائیں گے تاکہ عوام کو نچلی سطح پر نمائندگی اور بنیادی مسائل کے حل کے لیے مؤثر نظام فراہم کیا جا سکے۔








