حکومت بلوچستان اور زیارت دھرنا کمیٹی کے درمیان کامیاب مذاکرات کے بعد تحریری معاہدہ طے پا گیا، جسے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی (Mir Sarfraz Bugti) کی مفاہمتی کوششوں اور سیاسی بصیرت کا اہم نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ معاہدے کے بعد دھرنے کے خاتمے اور فریقین کے درمیان اعتماد کی بحالی کی راہ ہموار ہو گئی۔
حکومتی مذاکراتی کمیٹی کی سربراہ اور صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ (Bakht Muhammad Kakar) نے جرگے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بلوچستان اور دھرنا کمیٹی کے درمیان کامیاب مذاکرات سے امن، مفاہمت اور باہمی اعتماد کی نئی فضا قائم ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی (Mir Sarfraz Bugti) کی مدبرانہ قیادت اور مفاہمتی حکمت عملی کے باعث شہدائے زیارت کے لواحقین کے ساتھ باوقار تحریری معاہدہ ممکن ہوا۔
بخت محمد کاکڑ (Bakht Muhammad Kakar) نے کہا کہ یہ معاہدہ حکومت کے عوامی اعتماد، قانون کی بالادستی اور شہداء کے اہل خانہ سے کیے گئے وعدوں کی تکمیل کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت بلوچستان شہداء کے لواحقین کے تمام جائز مطالبات پر مروجہ پالیسی کے مطابق عمل درآمد یقینی بنائے گی اور کسی متاثرہ خاندان کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ معاہدے کے تحت جوڈیشل کمیشن کی تشکیل، امن و امان کی صورتحال پر مشاورت اور پولیس کی استعداد کار میں اضافے جیسے اقدامات بھی حکومت کی سنجیدہ حکمت عملی کا حصہ ہیں، تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام اور عوام کے تحفظ کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
مزید پڑھیں:کوئٹہ میں ایرانی پیٹرول کی قیمت میں تیزی سے اضافہ کیوں ہو رہا ہے؟
وزیر صحت نے کہا کہ شہداء کی قربانیاں پوری قوم کا قیمتی سرمایہ ہیں اور ان کے اہل خانہ کا احترام، کفالت اور فلاح حکومت بلوچستان کی اولین ذمہ داری ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت شہداء کے خاندانوں کے ساتھ ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔
بخت محمد کاکڑ (Bakht Muhammad Kakar) نے پاک فوج (Pakistan Army)، فرنٹیئر کور (Frontier Corps)، پولیس، لیویز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہی کی لازوال قربانیوں کی بدولت دہشت گردی کے خلاف جنگ اور امن کے قیام کی جدوجہد جاری ہے۔









