مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، خام تیل کی قیمتوں میں اضافے اور امریکی فیڈرل ریزرو (Federal Reserve) کی جانب سے شرح سود میں مزید اضافے کے امکانات کے باعث پیر کو عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی۔
عالمی منڈی میں اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.4 فیصد کمی کے بعد 4,000.55 ڈالر فی اونس پر آ گئی۔ گزشتہ ہفتے کے دوران بھی سونے کی قیمت میں دباؤ دیکھا گیا تھا، جب جمعہ کو یہ دو ہفتوں کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا جبکہ ہفتہ وار بنیاد پر سونے کی قدر میں 2.5 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ امریکی گولڈ فیوچرز بھی 0.3 فیصد گر کر 4,005.90 ڈالر فی اونس پر ٹریڈ کرتے رہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق سونے کی قیمتوں میں کمی کی بڑی وجہ سرمایہ کاروں کی توجہ محفوظ اثاثوں کے بجائے شرح سود سے منسلک مالیاتی آلات کی جانب منتقل ہونا ہے، کیونکہ بلند شرح سود ایسے اثاثوں کی کشش کم کر دیتی ہے جو کوئی منافع یا سود فراہم نہیں کرتے۔
مزیدپڑھیں:ڈالر کی قدر میں عالمی سطح پر اضافہ
دوسری جانب مشرق وسطیٰ میں امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی توانائی مارکیٹ کو متاثر کیا ہے۔ برینٹ خام تیل کی قیمت 3 فیصد اضافے کے ساتھ 90 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جس سے عالمی سطح پر مہنگائی کے دباؤ میں اضافے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
امریکا کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ ایران کے خلاف مسلسل نویں رات بھی کارروائیاں کی گئیں، جبکہ اردن میں کم از کم دو امریکی فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق بھی سامنے آئی ہے۔ خطے میں موجود امریکی اتحادی ممالک نے بھی اتوار کے روز ایران کی جانب سے مزید حملوں کی اطلاعات دی ہیں، جس کے باعث عالمی سرمایہ کاروں میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔
امریکی فیڈرل ریزرو کی پالیسی سے متعلق خدشات بھی سونے کی قیمتوں پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ کلیولینڈ فیڈ کی صدر بیتھ ہیماک (Beth Hammack) نے کہا ہے کہ مہنگائی پر قابو پانے کے لیے شرح سود میں مزید اضافہ کرنا پڑ سکتا ہے، جس کے بعد فیڈ کے آئندہ اجلاس میں سخت مالیاتی پالیسی پر غور کیے جانے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔
دریں اثنا امریکی کموڈٹی فیوچرز ٹریڈنگ کمیشن (Commodity Futures Trading Commission) کے مطابق 14 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے میں سرمایہ کاروں نے سونے میں اپنی نیٹ لانگ پوزیشنز میں 4 ہزار 294 معاہدوں کا اضافہ کیا، جو مارکیٹ میں طویل مدت کے لیے سونے پر اعتماد کی نشاندہی کرتا ہے۔
دیگر قیمتی دھاتوں میں چاندی کی قیمت 0.9 فیصد اضافے کے ساتھ 56.42 ڈالر فی اونس، پلاٹینم 0.1 فیصد اضافے کے بعد 1,592.97 ڈالر جبکہ پیلاڈیم 0.3 فیصد بڑھ کر 1,251.74 ڈالر فی اونس تک پہنچ گیا۔









