الیکشن کمیشن آف پاکستان نے تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے انٹرا پارٹی انتخابات سے متعلق محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے جماعت سے انتخابی نشان ’’کرین‘‘ واپس لینے کا حکم دے دیا۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کیے گئے سات صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے جمع کرائی گئی انٹرا پارٹی انتخابات سے متعلق دستاویزات قانونی تقاضوں پر پوری نہیں اترتیں، اس لیے انہیں مسترد کرتے ہوئے جماعت کو انتخابی نشان کے لیے نااہل قرار دیا جاتا ہے۔
فیصلے کے مطابق ٹی ایل پی الیکشن ایکٹ 2017 کی دفعہ 209 کے تحت مقررہ شرائط پوری کرنے میں ناکام رہی، جبکہ جماعت کے انٹرا پارٹی انتخابات بھی اس کے اپنے آئین کے مطابق منعقد نہیں کیے گئے۔
الیکشن کمیشن نے اپنے فیصلے میں الیکشن ایکٹ 2017 کی دفعہ 215(5) کا حوالہ دیتے ہوئے تحریک لبیک پاکستان کا انتخابی نشان’’کرین‘‘ واپس لینے کا حکم جاری کیا ہے۔کمیشن نے متعلقہ حکام کو فیصلے پر فوری عمل درآمد کی ہدایت بھی جاری کر دی ہے۔
تحریری فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ کسی بھی سیاسی جماعت کو انتخابی نشان اسی صورت جاری کیا جا سکتا ہے جب وہ الیکشن ایکٹ اور متعلقہ قوانین کے تحت تمام قانونی تقاضے پورے کرے۔ انٹرا پارٹی انتخابات کا شفاف، باقاعدہ اور جماعتی آئین کے مطابق انعقاد انتخابی نشان برقرار رکھنے کے لیے لازمی شرط ہے۔
الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ انتخابی عمل میں شفافیت، قانون کی بالادستی اور سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوری روایات کو فروغ دینے کے لیے تمام جماعتوں پر یکساں قانونی تقاضوں کا اطلاق ہوتا ہے، لہٰذا مقررہ شرائط پوری نہ کرنے والی جماعت انتخابی نشان کی حقدار نہیں رہتی۔









