آزاد کشمیر میں کالعدم ایکشن کمیٹی، جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ، پی ٹی آئی اور سُرخ انقلاب کی تشنہ آرزو لئے چند سرخوں نے 18 مہینوں سے کشمیر میں جو شورش پیدا کی ہوئی ہے اسکی وجہ سے آزاد کشمیر میں سیاحت میں 68 فیصد کمی ہوئی ہے جس سے مقامی افراد کو 167 ارب کا نقصان ہوا ہے، اور اگر سرمایہ کاروں کا نقصان بھی شامل کرلیا جائے تو یہ تقریباً 250 ارب کا معاشی نقصان بنتا ہےجبکہ اس نام نہاد ایکشن کمیٹی نے جو ٹیکس ختم کرنے مطالبہ کیا تھا وہ صرف 20 ارب بھی نہیں۔
یہ ہر تقریر ہر پوسٹ میں کہتے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر ہم سے اتنا آگے نکل گیا ہےاور جب ان سے پوچھتے ہیں کتنا آگے نکل گیا ہے تو نعرے مارتے ہیں استحصال، ظالم ریاست، اسٹبلشمٹ، کشمیر کا پانی ،ڈیم اور بھانت بھانت کے Buzz Words دہراتے رہتے ہیں۔
انہیں معلوم ہوکہ آزاد کشمیر میں غربت کی شرح 22 جبکہ مقبوضہ کشمیر میں 49 فیصد ہے،آزاد کشمیر سو فیصد ٹیلی کام کوریج ہے جبکہ مقبوضہ کشمیر کے 31 فیصد علاقے میں آج بھی موبائل سروس اور انٹرنیٹ نہیں ہے،آزاد کشمیر میں 314 افراد پر ایک ڈاکٹر ہے جبکہ مقبوضہ کشمیر میں 660 افراد کے لئے ایک ڈاکٹر،آزاد کشمیر میں تعلیم کی شرح 77 فیصد ہے اور مقبوضہ کشمیر میں یہ ہی شرح 67 فیصد،پھر یہ کہتے ہیں کہ اسمبلی میں کشمیری مہاجرین کی جو 12 نشستیں ہیں انہیں ختم کرویعنی کہ وہ کشمیری مہاجرین کو 1947، 65، 71، 88، 92 اور 95 میں پاکستان /آزاد کشمیر آئے انکی نمائندگی ہی نا ہو؟پتا ہے یہ 12 سیٹیں کتنے افراد پر ہے؟ ان حلقوں میں کیسی مہم چلتی ہے اور کیسا مقابلہ ہوتا ہے؟؟
بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں آزاد کشمیر اور گلگت کے لئے 24 نشستیں رکھی ہوئی ہیں جو کہ خالی ہی رہتی ہیں،دونوں ممالک میں سے جو یہ نشستیں ختم کرے گا وہ دراصل کشمیر کے دوسرے حصے پر اپنا حق ختم کرنے کا اعلان کرے گا،انکی مانگ تھی کہ ہمارا بجلی کا بل اتنا کرو جو بجلی بنانے کی قیمت ہےتو بھائی بجلی ٹرانشمین، تقسیم، انفراسٹرکچر اور مرمت کے پیسے کون دے گا؟ کشمیر میں موجود الیکٹرک کمپنیوں کے ملازمین کی تنخواہ کون دے گا؟آزاد کشمیر میں 100 یونٹ تک بجلی آج بھی 3 روپے فی یونٹ ملتی ہے جبکہ پاکستان کے دیگر علاقوں کے صارفین اس ہی مد میں 9 روپے دیتے ہیں۔
آزاد کشمیر میں کمرشل یونٹ 10 اور 15 روپے کا ہے جبکہ پاکستان کے دیگر علاقوں میں یہ یونٹ 34 اور 62 روپے کا ہے،یہ مانگ بھی پوری کردی گئی، کشمیر میں آٹے کا جو تھیلا 2000 (رعایت شدہ رقم) وہی تھیلا پاکستان کے دیگر صوبوں میں 3500 کا ہے،کشمیر کا بجٹ 310 ارب ہے جس میں سے 157 ارب روپے وفاقی حکومت دیتی ہے، حیران کن بات یہ ہے کہ کشمیر کے بجٹ کا 50 فیصد صرف سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں جاتا ہے جو آبادی کا 30 فیصد ہے۔
ایک تخمینہ یہ بھی ہے کہ کشمیر واحد علاقہ ہے جہاں تقریباً ہر گھر سے ایک فرد سرکاری ملازم ہے،آزاد کشمیر کے طُلبہ کے لئے پاکستان کی 22 یونیورسٹیوں میں 125 نشستیں مختص ہیں ،پنجاب کے میڈیکل کالجز میں 36 نشستیں اسکے علاوہ ہیں.جبکہ حکومت پنجاب نے کشمیر کے طلبہ کے لئے 75 کروڑ روپے کا کشمیر ایجوکیشنل اینڈونمنٹ فنڈ بھی رکھا ہوا ہے۔پچھلے بجٹ میں آزاد کشمیر انٹرمیڈیٹ اور سیکنڈری بورڈ کے تمام یتیم طُلبہ کی تعلیم کو وزیر اعظم کشمیر نے بالکل مفت کردیا تھا۔
کشمیر کا ہر شہری کسی بھی CMH, MDS اور کسی بھی فوجی یونٹ کی ڈسپنسری سے مفت علاج کرواسکتا ہے،ایک مطالبہ یہ لوگ انٹرنیشنل ائیر پورٹ کا بھی کرکے ہڑتال کی کال اور مارچ کی دھمکیاں دیتے رہے ہیں. حالانکہ مظفرآباد انٹرنیشنل ائیرپورٹ کے لئے اپریل 2025 سے زمین کے حصول پر کام چل رہا تھا جو اب تکمیل کی جانب ہے، دوسری طرف میرپور میں انٹرنیشنل ائیر پورٹ کی فزیبلٹی بھی بن چکی ہے،لہذا موجودہ احتجاج ہڑتال اور اسکے بعد کا لائحہ عمل حقوق کی تلفی اور حقوق حاصل کرنے کی جدوجہد ہے ہی نہیںبلکہ یہ ایک منظم شورش ہےجسکا کوئی تانا بانا نہیںبلکہ پورے پورے تھان غیر ملکی سفارت خانوں اور دبئی میں بیٹھے بھارتی آڑھتیوں کے گوداموں سے ملیں گےآزاد کشمیر میں موجودہ شور شرابہ تحریک نہیں ہےبلکہ اس گریٹر گیم کی ایک اننگ ہے جسکا ذکر راج ناتھ کررہا ہے،آج الیکشن کے پہلے مرحلے نے انکی سازش، شرارت اور شورش کو ناکام بنادیا۔









