سعودی فورسز کے ترجمان جنرل ترکی المالکی کے مطابق بصرہ، واسط، کربلا اور نینویٰ کے علاقوں میں کارروائیاں کی گئیں،عراق میں موجود ایران نواز ملیشیا کو اب جواب دیا جا رہا ہے۔
سعودی وزارت دفاع کےمطابق عراق میں موجود ملیشیاؤں کے ٹھکانوں کو امریکی سینٹرل کمانڈ کے ساتھ ملکر نشانہ بنایا گیا،مذکورہ ملیشیائیں سعودی عرب کی تیل تنصیبات کو نشانہ بنانے میں ملوث تھیں۔
سعودی حکام کےمطابق کارروائی قومی سلامتی کےتحفظ اورتیل تنصیبات کےدفاع کےلیےکی گئی، سعودی عرب اپنی سرزمین،عوام اورقومی مفادات کےدفاع کےلیےہرضروری اقدام اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
مزید پڑھیں:ایرانی حکام کا سعودی عرب پر حملوں سے لاتعلقی کا اعلان، الزامات مسترد
دوسری جانب ایرانی میڈیا کا کہنا ہےکہ سعودی عرب پر حملوں سے ایران کاکوئی تعلق نہیں ہے،واضح رہےکہ اربیل میں واقع امریکی فوجی اڈے پرمبینہ ڈرون حملہ ہوا جس میں امریکی قونصل خانہ بھی ہدف بنا۔









