بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

حوثیوں نے 8 سعودی جہازوں کو واپسی پر مجبور کردیا، بحیرہ احمر میں کشیدگی

یمن کے حوثی گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اپنی بحری کارروائیوں کے نتیجے میں آٹھ سعودی آئل ٹینکروں کو اپنا راستہ تبدیل کرنے پر مجبور کر دیا.

یمنی فوج کے ترجمان یحییٰ سریع نے کہا کہ یمنی مسلح افواج سعودی عرب کے خلاف اپنی بحری ناکہ بندی کی کارروائی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق ہماری مسلح افواج کا ہاتھ جہاں تک پہنچ سکتا ہے وہاں تک سعودی جہاز بھی ہماری کارروائیوں کی زد میں آ سکتے ہیں۔

تاہم حوثیوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ مبینہ طور پر آٹھ سعودی آئل ٹینکروں نے اپنا راستہ کب اور کن حالات میں تبدیل کیا۔

حوثیوں نے 20 جولائی کو سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا تھا۔ اس اعلان کے بعد بحیرہ احمر اور باب المندب کے راستے سے گزرنے والے تجارتی اور تیل بردار جہازوں کی سیکیورٹی کے حوالے سے خدشات میں اضافہ ہو گیا ہے۔

اس سے قبل بعض میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ حوثی باب المندب سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر فیس عائد کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں تاہم حوثی قیادت نے ان اطلاعات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد تجارتی جہازوں سے محصولات وصول کرنا نہیں بلکہ اپنی عسکری حکمت عملی پر عمل درآمد کرنا ہے۔

باب المندب دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتا ہےجو بحیرہ احمر کو خلیج عدن اور بحرِ عرب سے ملاتا ہے۔ اس راستے سے روزانہ بڑی مقدار میں خام تیل، قدرتی گیس اور دیگر تجارتی سامان دنیا کے مختلف حصوں تک پہنچایا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں:رائیونڈ، شہباز، نواز،مریم و اسحاق ڈار ملاقات، سیاسی صورتحال پرتبادلہ خیال

حوثیوں کے اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی جبکہ سعودی حکام کی جانب سے بھی اس حوالے سے فوری طور پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔بحیرہ احمر اور باب المندب میں بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیاں پورے مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی کے لیے ایک نیا چیلنج بن سکتی ہیں اور عالمی برادری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔