بھارت کی جانب سے دریاؤں میں پانی چھوڑنے کا سلسلہ جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق گیارہ مرتبہ سلال ڈیم سے پانی چھوڑنے کے بعد بھارت نے بگلیہار ڈیم سے بھی نیا سیلابی ریلہ چھوڑ دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارت کی مسلسل آبی سرگرمیوں سے پاکستان کے لیے سیلابی خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ اسے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں:پولٹری فارمنگ انسانی صحت کیلئے مضر کیوں؟ نئی تحقیق سنگین نتائج کے انکشافات
حکام کے مطابق بھارت کی جانب سے پانی چھوڑنے کے باعث دریاؤں میں پانی کے بہاؤ کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے، جبکہ متعلقہ ادارے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے الرٹ ہیں۔









