بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

نئے صوبوں کی بحث، مسلم لیگ (ن) کی حکمت عملی کیا ہوگی؟

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی (Mohsin Naqvi)نے حال ہی میں کہاکہ ملک میں بہتر طرز حکمرانی کے لیے نئے انتظامی یونٹس اور صوبوں کے قیام پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے اور اس معاملے پر سیاسی اتفاق رائے ضروری ہے۔

اس کے بعد ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے اپنے بیان میں واضح کیاکہ نئے صوبوں سمیت تمام سیاسی اور آئینی فیصلے منتخب سیاسی قیادت اور پارلیمان کا اختیار ہیں، جبکہ فوج کا اس عمل میں کوئی سیاسی کردار نہیں۔

ان بیانات کے بعد اب یہ کہا جارہا ہے کہ مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے وزیراعظم شہباز شریف کو مشاورت کے لیے طلب کرلیا ہے۔ ایسے میں یہ سوال اہم ہوگیا ہے کہ آیا مسلم لیگ ن نئے صوبوں کے معاملے پر اپنی پالیسی میں کوئی تبدیلی لانے جارہی ہے یا آئینی اتفاق رائے کے اپنے سابقہ مؤقف پر برقرار رہے گی۔

ن لیگ کی ممکنہ مشاورت میں کن موضوعات پر بات ہوگی؟

سیاسی تجزیہ کار ماجد نظامی کے مطابق نئے صوبوں کا معاملہ اپنی جگہ اہم ہے، تاہم مسلم لیگ (ن) کی قیادت کے درمیان ہونے والی ممکنہ مشاورت کا دائرہ اس سے کہیں زیادہ وسیع ہو سکتا ہے۔

ان کے خیال میں اس ملاقات میں حکومت کے مستقبل، دو بڑی سیاسی جماعتوں کی آئندہ حکمت عملی اور ملک کی بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال پر بھی غور کیا جائےگا۔

ماجد نظامی کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی جانب سے نئے صوبوں اور انتظامی اصلاحات سے متعلق بیان اور اس کے بعد ڈی جی آئی ایس پی آر کے مؤقف نے سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ ان کے مطابق ان بیانات سے یہ تاثر پیدا ہورہا ہے کہ موجودہ سیاسی بندوبست کے حوالے سے کچھ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں اور مسلم لیگ (ن) کو اپنی آئندہ سیاسی سمت کا ازسرنو جائزہ لینا ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کے لیے سب سے اہم فیصلہ یہ ہوگا کہ وہ آئندہ سیاست میں مفاہمت کا راستہ اختیار کرتی ہے یا مزاحمت کی حکمت عملی اپناتی ہے۔ اگر پارٹی مفاہمتی سیاست کو جاری رکھتی ہے تو وہ موجودہ سیاسی نظام کے اندر رہتے ہوئے معاملات آگے بڑھانے کی کوشش کرے گی، لیکن اگر مزاحمتی سیاست کا فیصلہ کیا جاتا ہے تو نواز شریف کو زیادہ نمایاں سیاسی کردار میں لانے کا امکان بڑھ سکتا ہے۔

ماجد نظامی کے مطابق مزاحمتی سیاست کا راستہ اختیار کرنے کی صورت میں مسلم لیگ (ن) کو سیاسی قیمت بھی ادا کرنا پڑ سکتی ہے، کیونکہ اس کے نتیجے میں حکومت کے مستقبل، اتحادی سیاست اور ریاستی اداروں کے ساتھ تعلقات پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہاکہ مسلم لیگ (ن) فوری طور پر کسی ایک معاملے پر فیصلہ کرنے کے بجائے مستقبل قریب اور دوررس سیاسی امکانات کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی حکمت عملی ترتیب دے گی۔

ان کے مطابق نئے صوبوں کا معاملہ اسی وسیع تر سیاسی منظرنامے کا ایک حصہ ہے، جس میں حکومت کی بقا، پارٹی کی سیاسی پوزیشن اور آئندہ انتخابات کی تیاری بھی شامل ہے۔

آئینی ڈھانچے میں تبدیلی مطلوبہ طریقہ کار کے تحت ہی ہو سکتی ہے، مجیب الرحمان شامی

سینیئر تجزیہ کار مجیب الرحمان شامی کا کہنا ہے کہ شریف برادران کی ملاقات میں نئے صوبوں کے معاملے پر کیا پیش رفت ہوئی، اس بارے میں ان کے پاس کوئی مصدقہ معلومات موجود نہیں ہیں۔ تاہم ان کے مطابق یہ بات واضح ہے کہ آئینی ڈھانچے میں کسی بھی تبدیلی کا فیصلہ آئین میں درج طریقہ کار کے مطابق ہی کیا جا سکتا ہے۔

مجیب الرحمن شامی کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کا ہمیشہ سے یہی مؤقف رہا ہے کہ بڑے آئینی معاملات پارلیمانی اور قانونی طریقہ کار کے تحت ہی آگے بڑھنے چاہییں۔ ان کے بقول اگر مسلم لیگ (ن) اپنے اس مؤقف سے انحراف کرتی ہے تو یہ اس کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ یہ اس کی اپنی سیاسی پوزیشن کے لیے ایک بڑا خطرہ ہوگا۔

نئے انتظامی یونٹس پر ن لیگ اور پی پی پی راضی نہیں ہوں گی، احمد ولید

سیاسی تجزیہ کار احمد ولید نے کہاکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام کے معاملے پر آسانی سے آمادہ ہوتی دکھائی نہیں دیتیں، کیونکہ اس سے دونوں جماعتوں کے سیاسی مفادات متاثر ہو سکتے ہیں۔

ان کے مطابق سندھ یا پنجاب کی تقسیم کی صورت میں ان جماعتوں کی روایتی سیاسی برتری کمزور پڑنے کا خدشہ موجود ہے، اسی لیے وہ اس معاملے پر محتاط رویہ اختیار کریں گی۔

احمد ولید کا کہنا تھا کہ جنوبی پنجاب سمیت نئے صوبوں کے مطالبات کئی برسوں سے موجود ہیں، تاہم سیاسی جماعتیں عملی طور پر اس سمت میں پیشرفت نہیں کر سکیں، کیونکہ انہیں اپنے ووٹ بینک اور سیاسی پوزیشن پر ممکنہ اثرات کا خدشہ رہا ہے۔

انہوں نے کہاکہ اگر حکومت کا مقصد انتظامی کارکردگی بہتر بنانا اور عوام تک اختیارات منتقل کرنا ہے تو نئے صوبوں کے بجائے بااختیار بلدیاتی نظام زیادہ مؤثر حل ہو سکتا ہے۔

ان کے بقول دنیا کے کئی ممالک میں مقامی حکومتیں مقامی مسائل کے حل اور ترقیاتی منصوبوں میں مرکزی کردار ادا کرتی ہیں، جبکہ پاکستان میں بھی باقاعدہ بلدیاتی انتخابات اور مضبوط مقامی حکومتوں کے ذریعے عوام کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکتی ہیں۔