کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک سلیم اللہ نے کہا کہ ہم نے دو تین سالوں میں اسلامی بینکاری کی طرف کافی فاصلہ طےکیا ہے، بینکوں کے 29 فیصد ڈپازٹس اسلامی ہیں، بینکوں کے مجموعی قرضوں کا 40 فیصد اسلامی بینکوں نے دیئے ہیں۔
سلیم اللہ نے کہا کہ حکومت نے 2027 کےبعد کا خاکہ پیش کیا ہے، یکم جنوری 2028 سے حکومت کا قرض شریعہ کمپلائنٹ ہوگا، جہاں تک ممکن ہوا بیرونی قرضہ بھی شریعہ کمپلائنٹ طریقے سے حاصل ہوگا، حکومت اپنے روایتی قرضوں کی ادائیگی کرتی رہےگی، لیکن روایتی قرضوں کا رول اوور شریعہ کمپلائنٹ ہوگا۔
ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ حکومت نے اپنے قرضوں کو شریعہ کمپلائنٹ کرنےکی حکمت عملی دی ہے، 40 قوانین میں ترامیم منتقلی کے مقررہ وقت تک مکمل کرلی جائیں گی، یکم جنوری 2028 سے تمام قرض شریعہ کمپلائنٹ ہوگا، رباء سے پاک خدمات کی بازار میں مانگ ہے، یکم جنوری 2028 سے مقامی بینک شریعہ اصولوں پرمبنی خدمات فراہم کریں گے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابق چیئرمین رویت ہلال کمیٹی مفتی منیب الرحمٰن کا کہنا تھا کہ نظام عدل 40 سال تک انصاف نہ دے تو وہ نظام ظلم ہے، جو عدل کا نظام سزائے موت کے بعد ملزم کوباعزت بری کرے وہ عدل کا نظام نہیں، یہ لوگ صاحب اختیارہوتے ہیں توظلم کرتے ہیں۔
مفتی منیب الرحمٰن کا کہنا تھا صاحباں اقتدار نے عالمی مسائل حل کرلیے، اپنے ملک کے مسئلے بھی حل کریں، صاحبان اقتدار آئی پی پیز کا مسئلہ حل کریں، ملکی معیشت کا حال یہ ہےکہ صوبوں کے حصے اور سود ادائیگی کے بعدکچھ بچتا نہیں۔
مزید پڑھیں:خیرپور میں اعلیٰ معیاری لیتھیم کی دریافت، مقامی صنعت کے قیام کی راہ ہموار
انہوں نے مزید کہا کہ فیڈرل شریعت کورٹ نے 40 قوانین کی نشاندہی کی تھی، 20 قوانین ایسے ہیں جس نے ایس ای سی پی اور اسٹیٹ بینک کے ہاتھ باندھ رکھے ہیں۔









