مصر کے قدیم اہرام کی تعمیر سے متعلق ایک اہم اور دلچسپ سراغ سامنے آیا ہے۔ ماہرین نے دعویٰ کیا ہے کہ مشہور ریڈ پیرامڈ کے قریب ریت کے نیچے دبے دو بڑے ڈھانچے ممکنہ طور پر ایک پیچیدہ قدیم آبی نظام کا حصہ تھے، جسے تعمیراتی کام میں پانی کے بہاؤ کو کنٹرول کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔
ریڈ پیرامڈ قاہرہ سے تقریباً 15 سے 25 میل جنوب میں واقع ہے۔ کئی دہائیوں تک ان پراسرار ڈھانچوں کو پتھر منتقل کرنے والے راستے یا قدرتی زمینی ابھار سمجھا جاتا رہا۔ تاہم، نئی تحقیق میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ یہ دراصل سیلابی پانی کو جمع کرنے، مٹی اور ریت کو روکنے اور پانی کے بہاؤ کو منظم کرنے کے لیے بنائے گئے بڑے بند تھے۔
محققین کے مطابق مجوزہ نظام میں دو بڑے بند، ایک ذخیرہ آب، پانی کا رخ موڑنے والی نہر اور ایک ممکنہ قدیم تکونی اسپل وے شامل تھا۔ اگر یہ نظریہ درست ثابت ہوتا ہے تو یہ قدیم مصریوں کی تقریباً 4 ہزار 500 سال قبل پانی کی انجینئرنگ میں غیر معمولی مہارت کا ثبوت ہوگا۔
تحقیق کے مطابق کنٹرول شدہ پانی کا استعمال بھاری سامان اور تعمیراتی مواد کو اہرام کے قریب منتقل کرنے، مزدوروں کو پانی فراہم کرنے، تعمیر میں استعمال ہونے والے گارے کی تیاری اور تعمیراتی مقام کو شدید سیلاب سے محفوظ رکھنے کے لیے کیا جا سکتا تھا۔
ماہرین کا خیال ہے کہ یہ نظام اس دور سے تعلق رکھتا ہو سکتا ہے جب فرعون سنفرو نے دشور کے علاقے کو بڑے تعمیراتی منصوبوں کے مرکز میں تبدیل کیا تھا۔
البتہ، محققین نے واضح کیا کہ یہ دریافت ابھی حتمی ثبوت نہیں۔ زیرِ زمین موجود ڈھانچوں کی باقاعدہ کھدائی نہیں ہوئی اور نہ ہی ان کی تاریخ کا قابلِ اعتماد تعین کیا جا سکا ہے۔ اس لیے ان کا ریڈ پیرامڈ کی تعمیر سے براہِ راست تعلق فی الحال ایک دلچسپ مگر غیر ثابت شدہ نظریہ ہے۔
مزید پڑھیں:گڈز ٹرانسپورٹ کی ملکگیر ہڑتال، مطالبات کی منظوری تک جاری رکھنے کا اعلان
اگر مستقبل کی کھدائی اور سائنسی تحقیقات اس نظریے کی تصدیق کر دیتی ہیں تو یہ دریافت اس بارے میں ہماری سمجھ کو بدل سکتی ہے کہ قدیم مصریوں نے ہزاروں سال قبل دنیا کے عظیم ترین تعمیراتی منصوبوں میں پانی اور انجینئرنگ کی ٹیکنالوجی کو کس طرح استعمال کیا۔









