نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک)بھارت میں سوویت دور کا لڑاکا طیارہ مگ-21 تربیتی پرواز کے دوران گر کر تباہ ہوگیا جس کے نتیجے میں 2 پائلٹ ہلاک ہو گئے۔
بھارتی فضائیہ کا کہنا ہے کہ مگ-21 طیاروں کو پیش آنے والے حادثات کے متعدد واقعات کے بعد ان طیاروں سے متعلق حفاظتی خدشات بڑھ گئے ہیں۔
وزارت دفاع نے بتایا کہ مگ-21 گزشتہ شب مغربی ریاست راجستھان کے صحرا میں بارمیر شہر کے قریب گرا۔
گزشتہ سال جنوری سے اب تک مگ-21 طیاروں کو پیش آنے والے حادثات کا یہ چھٹا واقعہ ہے، ان حادثات میں مجموعی طور پر 5 پائلٹ مارے جا چکے ہیں۔
بھارتی فضائیہ نے کہا کہ تربیتی طیارہ حادثے کا شکار ہواجس کی وجہ جاننے کے لیے تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے۔
بھارتی فضائیہ نے ٹوئٹ میں بتایا کہ ’بھارتی ایئر فورس کو جانوں کے ضیاع پر گہرا افسوس ہے اور دکھ کی اس گھڑی میں غمزدہ اہل خانہ کے ساتھ ہیں‘۔
مقامی میڈیا کی فوٹیج میں حادثے کے شکار جہاز کا ملبہ بڑے علاقے پر پھیلا ہوا دکھایا گیا۔
وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ وہ اس حادثے میں 2 پائلٹوں کی ہلاکت پر شدید غمزدہ ہیں۔
انہوں نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا کہ ’قوم کے لئے ان کی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا‘۔
مگ-21 جیٹ طیاروں کو پہلی بار 1960 کی دہائی میں بھارت سروس میں شامل کیا گیا جنہوں نے کئی دہائیوں تک بھارتی فضائیہ کی ریڑھ کی ہڈی کے طور پر کام کیا۔
تاہم گزشتہ چند دہائیوں میں ہونے والے متعدد حادثات کے سبب ان طیاروں کو ان کے خراب حفاظتی ریکارڈ کی وجہ سے ’اُڑتے تابوت‘ کا نام دے دیا گیا ہے۔
بھارت اپنی فضائیہ کو جدید بنانے کے لیے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہا ہے، اس اقدام کی وجہ پاکستان کے ساتھ اس کی دہائیوں پرانی دشمنی اور چین کے ساتھ بڑھتا ہوا تناؤ ہے۔
بھارتی فوج نے درجنوں فرانسیسی رافیل لڑاکا طیارے خریدے ہیں جن کی ترسیل 2020 میں شروع ہوچکی ہے۔









