تمباکو کمپنیوں کی جانب سے کم نرخ پر تمباکو کی خریداری کے خلاف کاشتکاروں نے صوابی پریس کلب کے سامنے احتجاج کیا،اس دوران ایک کاشتکار تمریز خان نے احتجاجاً 500 کلوگرام تمباکو کے بنڈلز کو آگ لگا دی۔
تمباکو کاشتکار تمریز خان نے احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ میں نے صرف تمباکو نہیں جلایا بلکہ اپنے بچوں کا خون اور ان کی ضروریات جلائی ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کاشتکاروں پر رحم کیا جائے اور تمباکو کی خریداری مقررہ نرخ پر یقینی بنائی جائے۔
کاشتکاروں کے مطابق پاکستان ٹوبیکو بورڈ نے تمباکو کی فی کلو قیمت 740 روپے مقرر کی ہے تاہم ملٹی نیشنل اور قومی کمپنیاں مبینہ طور پر کاشتکاروں سے تمباکو 300 سے 350 روپے فی کلو کے حساب سے خرید رہی ہیں۔
کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ صوابی میں تقریباً 30 ہزار خاندانوں کا روزگار تمباکو سے وابستہ ہے۔کاشتکاروں کے مطابق مالی سال 2025-26 کے دوران تمباکو کے شعبے سے وفاقی حکومت نے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی اور جنرل سیلز ٹیکس کی مد میں 329 ارب روپے وصول کیے جبکہ انکم ٹیکس سمیت مجموعی وفاقی ٹیکس وصولی 357 ارب روپے رہی۔
مزید پڑھیں:بھارت:مشتعل شہریوں کا ممتا بینرجی کی گاڑی پر اینٹوں سے حملہ، بال بال بچ گئیں
کاشتکاروں نے حکومت، پاکستان تمباکو بورڈ (Pakistan Tobacco Board) اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ تمباکو کی خریداری مقررہ نرخ پر یقینی بنائی جائے اور انہیں پیداوار کا مناسب معاوضہ دیا جائے۔ مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ انتظامیہ کے دفاتر تک وسیع کیا جائے گا۔









