وزارتِ توانائی (power Division) نے پاکستان کے پہلے نیشنل پاور سیکٹر انوویشن پروگرام کا آغاز کردیا ہے، جس کا مقصد ملک کے پاور سیکٹر میں نئی تحقیق، جدید ٹیکنالوجی اور تخلیقی سوچ کو فروغ دیتے ہوئے توانائی کے شعبے کو درپیش چیلنجز کے قابلِ عمل اور پائیدار حل تلاش کرنا ہے۔
پروگرام کے تحت انوویشن حب کو ایک مخصوص ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کیا جائے گا، جس کے ذریعے نوجوانوں، محققین، جامعات، اسٹارٹ اپس، صنعت اور متعلقہ ماہرین کو ایک ہی پلیٹ فارم پر لایا جائے گا۔ اس اقدام کے ذریعے توانائی کے شعبے سے متعلق نئے اور مؤثر آئیڈیاز سامنے لانے اور انہیں عملی منصوبوں میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق نیشنل پاور سیکٹر انوویشن پروگرام کے تحت آئندہ تین برسوں کے دوران کامیاب منصوبوں کے لیے ایک ارب روپے سے زائد کی رقم مختص کی گئی ہے، جبکہ ہر کامیاب نوجوان کو 5 لاکھ روپے تک کا معاوضہ دیا جائے گا۔
وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا کہ نیشنل پاور سیکٹر انوویشن پروگرام محض ایک مقابلہ نہیں بلکہ مستقل قومی ادارہ جاتی نظام ہے۔ پاور سیکٹر کو صرف مزید محنت کی نہیں بلکہ مزید اختراع اور تخلیقی سوچ کی ضرورت ہے۔
مزیدپڑھیں:کیرولین لیویٹ رواں ماہ کے آخر میں عہدہ چھوڑ دیں گی، ٹرمپ
اویس لغاری نے کہا کہ پروگرام کے ذریعے سامنے آنے والے باصلاحیت نوجوانوں کی سرپرستی کی جائے گی، انہیں رہنمائی اور عملی معاونت فراہم کی جائے گی، جبکہ بہترین تحقیق کو قابلِ عمل منصوبوں میں تبدیل کرنے کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں گے۔
وفاقی وزیر توانائی کے مطابق انوویشن حب کے ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے خواہشمند طلبہ، محققین، اسٹارٹ اپس اور نوجوان پیشہ ور افراد اپنے خیالات جمع کرا سکیں گے۔ اس عمل کے نتیجے میں ملک کو درپیش توانائی کے چیلنجز کے لیے جدید اور مؤثر حل تیار کرنے میں مدد ملے گی۔
نیشنل پاور سیکٹر انوویشن پروگرام کو پاکستان کے توانائی کے شعبے میں تحقیق، جدت اور ٹیکنالوجی کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس کے ذریعے نوجوان صلاحیتوں کو قومی توانائی کے مسائل کے حل کے لیے بروئے کار لانے کا موقع فراہم کیا جائے گا۔









