بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

سگریٹ کے دھوئیں سے تنگ خاتون نے نوکری چھوڑ دی، استعفیٰ سوشل میڈیا پر وائرل

دفتر میں کام کرنا تھا یا ہر روز سگریٹ کے دھوئیں کا سامنا؟ ایک خاتون نے آخرکار تنگ آکر اپنی نوکری(resign) ہی چھوڑ دی۔ انہوں نے استعفیٰ دینے کے بعد اس کا اسکرین شاٹ سوشل میڈیا پر شیئر کردیا۔ اس پوسٹ کو اب تک پچاس لاکھ سے زائد بار دیکھا جا چکا ہے، جس کے بعد سوشل میڈیا صارفین بھی اس معاملے پر اپنی رائے دینے لگے۔

بھارت کے شہر بنگلور سے تعلق رکھنے والی جھانوی چاوڈا نامی خاتون نے ایکس پر اپنے استعفے کی تصویر شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے گزشتہ روز ملازمت چھوڑ دی ہے۔

جھانوی نے بتایا کہ دفتر میں مسلسل سگریٹ کے دھوئیں نے ان کے لیے کام کرنا مشکل کردیا تھا۔ انہوں نے کہا، ”میں سگریٹ کی بو بالکل برداشت نہیں کرسکتی۔ میں نے خود کو حالات کے مطابق ڈھالنے کی بہت کوشش کی، لیکن ایسا نہیں کرسکی۔“

خاتون کے مطابق دفتر میں کچھ لوگ پینٹری اور کھانے کے علاقے میں سگریٹ پیتے تھے، لیکن مسئلہ صرف وہاں تک محدود نہیں رہتا تھا۔ سگریٹ پینے کے بعد بعض افراد ان کے قریب آکر بیٹھ جاتے، جس سے دھواں اس لابی تک پھیل جاتا جہاں وہ کام کرتی تھیں۔

جھانوی نے بتایا کہ انہوں نے اس صورتحال سے بچنے کے لیے ماسک پہننے تک کی کوشش کی، لیکن اس کا بھی کوئی خاص فائدہ نہیں ہوا۔ آخرکار انہوں نے فیصلہ کیا کہ اس ماحول میں مزید کام کرنے کے بجائے ملازمت چھوڑ دینا ہی بہتر ہے۔

مزیدپڑھیں:نیپال میں بند ٹوٹنے کی قریب، نئے سیلاب کا خطرہ، چین نے بھی وارننگ جاری کردی

خاتون کے اس فیصلے نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی۔ کئی لوگوں نے کہا کہ کام کی جگہ پر کسی ایک شخص کی سگریٹ نوشی کا اثر دوسرے ملازمین پر نہیں پڑنا چاہیے۔ کچھ صارفین نے اپنے ساتھ پیش آنے والے ایسے ہی واقعات بھی شیئر کیے۔

ایک صارف نے بتایا کہ اسے بھی دفتر میں سگریٹ کے دھوئیں سے اسی طرح کی پریشانی کا سامنا تھا، تاہم شکایت کرنے پر اس کے مینیجر نے معاملہ سنبھالا اور صورتحال بہتر ہوگئی۔

کئی افراد نے جھانوی کے فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ صحت اور سکون کو نظر انداز کرکے صرف نوکری برقرار رکھنا ضروری نہیں۔ ایک صارف نے ان کے فیصلے کو بہادرانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگ مشکل حالات کو اس وقت تک برداشت کرتے رہتے ہیں جب تک ان کے لیے مزید برداشت کرنا ممکن نہیں رہتا۔

سوشل میڈیا پر ہونے والی بحث میں زیادہ تر صارفین کا کہنا تھا کہ کسی کی ذاتی عادت کی وجہ سے دوسروں کو دھوئیں اور تکلیف کا سامنا نہیں کرنا چاہیے۔

یوں ایک خاتون کا چند سطروں پر مشتمل استعفیٰ نہ صرف وائرل ہوگیا بلکہ اس نے دفتر کے ماحول اور سگریٹ کے دھوئیں سے متعلق ایک سنجیدہ بحث بھی چھیڑ دی۔