بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

پمز سانحہ، حادثہ یا انتظامی غفلت؟ انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت کا پول کھل گیا

اسلام آباد: تحقیقاتی دستاویز کے مطابق سی ڈی اے کے متعلقہ محکمے کی جانب سے پمز انتظامیہ کو آگ سے بچاؤ کے انتظامات نہ ہونے پر کئی نوٹسز بھجوائے گئے۔ جرمانے اور عمارت سیل کرنے کی وارننگ کے باوجود حفاظتی اقدامات نہیں کیے گئے جس کی نتیجہ 14 معصوم بچوں کی موت کی صورت میں نکلا۔

دستاویز کے مطابق 2018 سے ناکارہ فائرسیفٹی نظام پر آگاہ کیا جاتارہا لیکن پمز انتظامیہ سوئی رہی، فائر سروسز نے متنبہ کیا تھا کہ کسی سانحے کی تمام ذمہ داری اسپتال انتظامیہ پر ہوگی۔

تمام وارننگ نوٹسز پمز ای ڈی اور جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹرز کو موصول کرائے گئے، نوٹسز کی کاپیاں وزارت صحت، کیڈ، ایم سی آئی اور سی ڈی اے کو بھی بھیجی گئیں۔ فائرسروسز نے پمز انتظامیہ کو جرمانے اورعمارت سیل کرنے کی وارننگ بھی دی، فائر سیفٹی ونگ نے پمز کو تفصیلی فائرآڈٹ رپورٹ 15 فروری 2018 کو بھجوائی۔

مئی2018،جولائی2019میں بھی نوٹسز ہوئے لیکن انتظامیہ کے کان پر جوں تک نہ رینگی، جون2023میں الرٹ جاری کیا،بند ایمرجنسی راستے اور کھلی وائرنگ کی نشاندہی کی گئی۔

مزید پڑھیں: گدو پاور پلانٹ کی اسٹیم ٹربائن بحالی کیلئےبین الاقوامی بولیاں طلب، ترجمان

9 مئی 2024 کو پمز کو فائرسیفٹی پلان اور فائر ڈرلز کیلئے 3 ماہ کی مہلت دی گئی۔ 10 نومبر 2025 کے فائنل نوٹس میں واضح کیا کہ حفاظتی اقدامات نہ کرنا دانستہ غفلت ہے۔