اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (PIMS) کی نرسری میں 26 اگست کو ہونے والی ہولناک آتشزدگی میں جاں بحق ہونے والے 14 نومولود بچوں میں ایک ایسا بچہ بھی شامل تھا جو اپنی پیدائش کے بعد قریباً 2 ماہ تک اسی اسپتال میں موجود رہا، لیکن اسے لینے کے لیے کوئی واپس نہیں آیا۔
فلاحی ادارے ایدھی فاؤنڈیشن کے مطابق بچے کی میت کسی رشتہ دار یا دعویدار کے حوالے نہ ہوسکی اور اسے ’ان کلیمڈ باڈی‘ یعنی غیر دعویدار میت کے طور پر اسلام آباد کے ای الیون قبرستان میں سپردِ خاک کردیا گیا۔
ایدھی ہومز اسلام آباد کے انچارج شکیل احمد کے مطابق آتشزدگی کے چند گھنٹے بعد بچے کی میت فاؤنڈیشن کے حوالے کی گئی۔ اسی روز قریباً 2 بجے نمازِ جنازہ ادا کرکے اسے دفن کردیا گیا۔
واضح رہے کہ ایدھی فاؤنڈیشن کے مطابق ہنگامی صورتحال کے باعث بچے کی میت حکام کی جانب سے فاؤنڈیشن کے حوالے کی گئی، جبکہ متعلقہ دستاویزات اور قانونی کارروائی مکمل ہونا باقی تھی۔
بچہ 2 ماہ تک پمز میں رہا، مگر لینے والا کوئی نہ آیا
پمز کے ایک ڈاکٹر نے اپنا نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کہ یہ بچہ 21 جون کو ایک 15 سالہ لڑکی کے ہاں پیدا ہوا تھا۔ پیدائش کے بعد پولیس کی جانب سے میڈیکو لیگل کارروائی کے سلسلے میں بچے کے خاندان سے شادی سے متعلق دستاویزات طلب کی گئیں۔
ان کے مطابق مطلوبہ دستاویزات فراہم نہ کیے جانے کے بعد بچے کی ماں اور اس کے اہل خانہ اسے اسپتال میں چھوڑ کر چلے گئے اور دوبارہ واپس نہیں آئے۔
اس کے بعد بچہ قریباً 2 ماہ تک پمز کے مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ سینٹر کی نرسری میں زیرِ نگہداشت رہا۔ سرکاری ریکارڈ میں اسے ’Baby of H‘ کے طور پر درج کیا گیا تھا، جبکہ اسپتال کے عملے نے غیر رسمی طور پر اسے ’علی‘ نام دے دیا تھا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ بچے کی دیکھ بھال کے لیے اسپتال کے عملے نے اپنی مدد آپ کے تحت انتظامات کیے۔ اسے خوراک اور کپڑے عطیات کے ذریعے فراہم کیے جاتے رہے۔
بچے کو گود دینے کی کوششیں جاری تھیں، تاہم قانونی تحویل کا عمل مکمل نہ ہوسکا۔
مزیدپڑھیں:بلوچستان: سیکیورٹی فورسز کا انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، 2 دہشتگرد ہلاک
پمز کے ڈاکٹروں کے مطابق بچے کے لیے مستقل سرپرست تلاش کرنے اور اسے گود دیے جانے کے امکانات پر بھی کام کیا جا رہا تھا۔
اس دوران بچے کی قانونی حیثیت اور مستقبل کی سرپرستی کا معاملہ بھی زیرِ غور رہا۔
عرب نیوز کے مطابق ایک پولیس افسر نے بتایا کہ پمز انتظامیہ نے بچے کی قانونی تحویل کے لیے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کے دفتر سے رابطہ کیا تھا اور اس حوالے سے ایک خط بھی بھیجا گیا تھا۔
تاہم یہ واضح نہیں کہ یہ خط کب بھیجا گیا، اس پر کیا کارروائی ہوئی اور بچے کی قانونی تحویل کا عمل کس مرحلے تک پہنچا تھا۔
دستیاب معلومات کی بنیاد پر یہ کہنا درست نہیں کہ بچے کو گود دینے کے قانونی کاغذات مکمل ہوچکے تھے یا کسی خاندان کے ساتھ گود لینے کی حتمی کارروائی جاری تھی۔ البتہ اسپتال کے مطابق بچے کے لیے مستقل سرپرستی اور گود لینے کے امکانات تلاش کیے جا رہے تھے۔
پھر پمز کی نرسری میں آگ بھڑک اٹھی
یاد رہے کہ 26 اگست کی صبح پمز کے مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ سینٹر کی نرسری میں اچانک آگ بھڑک اٹھی۔ اس وقت نرسری میں 15 نومولود بچے موجود تھے۔
آتشزدگی میں 14 بچے جاں بحق ہوگئے جبکہ صرف ایک بچے کو زندہ بچایا جاسکا۔
تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق آگ نے انتہائی تیزی سے شدت اختیار کی اور قریباً 2 منٹ میں نرسری کی صورتحال انتہائی سنگین ہوگئی۔ سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے مرتب کی گئی ٹائم لائن کے مطابق دھواں تیزی سے پھیلنے کے باعث کیمرے بھی متاثر ہوئے۔
آگ کے ابتدائی منبع کے بارے میں مختلف امکانات سامنے آئے ہیں، تاہم تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری رپورٹ میں اس کا حتمی تعین ابھی نہیں کیا گیا۔
فائر سیفٹی انتظامات پر سنگین سوالات
پمز آتشزدگی کے بعد اسپتال کے فائر سیفٹی اور ہنگامی ردعمل کے نظام پر بھی سوالات اٹھے ہیں۔
تحقیقاتی رپورٹ میں اسپتال میں ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے انتظامات اور نگرانی کے نظام میں خامیوں کی نشاندہی کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق اسپتال میں آگ سے نمٹنے کے لیے کوئی باقاعدہ مخصوص افسر موجود نہیں تھا، جبکہ یہ ذمہ داری اضافی طور پر ایک اسسٹنٹ ڈائریکٹر کو سونپی گئی تھی۔
تحقیقاتی کمیٹی نے یہ بھی نشاندہی کی کہ پمز میں جولائی میں نرسنگ ہاسٹل میں آگ لگنے کا واقعہ بھی پیش آیا تھا، لیکن اس کے باوجود حفاظتی انتظامات کو مؤثر بنانے کے لیے مطلوبہ اقدامات نہیں کیے گئے۔
8 افسران معطل، فوجداری کارروائی کا حکم
ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آنے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے پمز کے 8 افسران کو معطل کرنے اور ذمہ دار افراد کے خلاف فوجداری کارروائی شروع کرنے کی ہدایت کی۔
کارروائی کی زد میں اسپتال کے اعلیٰ انتظامی افسران، نیونیٹولوجی اور مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ سینٹر سے متعلقہ حکام اور سیکیورٹی انتظامات کے ذمہ دار افراد آئے ہیں۔
اسپتال کی سیکیورٹی پر مامور نجی کمپنی کے خلاف بھی کارروائی کی ہدایت کی گئی ہے۔
‘علی’ کی میت لینے والا کوئی نہیں تھا
پمز کی نرسری میں جاں بحق ہونے والے 14 بچوں میں سے بیشتر کی میتیں ان کے والدین یا اہل خانہ کے حوالے کردی گئیں، لیکن ’علی‘ کے لیے کوئی دعویدار سامنے نہیں آیا۔
یہ بچہ اپنی زندگی کے ابتدائی قریباً 2 ماہ اسپتال میں تنہا رہا۔ عملے نے اسے ایک نام دیا، اپنی مدد سے اس کی ضروریات پوری کیں اور اس کے مستقل مستقبل کے امکانات تلاش کیے، لیکن اس کی قانونی تحویل اور سرپرستی کا معاملہ حتمی مرحلے تک نہ پہنچ سکا۔ اور پھر وہ اسی اسپتال کی نرسری میں لگنے والی آگ میں جاں بحق ہوگیا۔
ایدھی فاؤنڈیشن نے اس کی میت ’ان کلیمڈ باڈی‘ کے طور پر وصول کی اور دفن کردیا۔
یہ واقعہ پمز آتشزدگی میں جاں بحق ہونے والے 14 نومولود بچوں کے المیے کے ساتھ پاکستان میں ان بے سہارا بچوں کے تحفظ کے نظام پر بھی سوال اٹھاتا ہے جو خاندان سے محرومی کے بعد سرکاری اسپتالوں میں رہ جاتے ہیں، کہ ان کی قانونی شناخت، سرپرستی اور حفاظت کی ذمہ داری آخر کس کی ہے؟









