نئی دہلی/ممبئی: اپریل سے جون کی پہلی سہ ماہی کے دوران بھارتی معیشت نے تمام تر تخمینوں اور توقعات کو پیچھے چھوڑتے ہوئے 7.8 فیصد کی شاندار شرح سے ترقی کی ہے۔
حکومتی اعداد و شمار اور عالمی معاشی ماہرین کے مطابق مضبوط داخلی کھپت، مینوفیکچرنگ، بجلی، گیس اور خدمات (خصوصاً رئیل اسٹیٹ اور فنانشل سروسز) کے شعبوں میں بہترین کارکردگی نے معیشت کو زبردست سہارا دیا۔ اگرچہ یہ شرح گزشتہ سہ ماہی کی 8.6 فیصد سے قدرے کم ہے، تاہم یہ ریزرو بینک آف انڈیا کے 7 فیصد اور معاشی ماہرین کے 7.1 فیصد کے اندازوں سے کہیں زیادہ ثابت ہوئی ہے۔
معاشی ماہرین اور ایچ ڈی ایف سی و ڈی بی ایس جیسے بین الاقوامی مالیاتی اداروں کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر توانائی کی بلند قیمتوں، مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات اور سپلائی چین کے مسائل کے باوجود بھارتی معیشت میں لچک اور پائیداری دیکھی گئی ہے۔ بہتر مون سون کی بدولت دیہی علاقوں میں مصنوعات کی طلب میں اضافہ ہوا ہے جس کے پیش نظر ماہرین نے پورے مالی سال 2027 کے لیے جی ڈی پی میں ترقی کا عمومی اندازہ بڑھا کر 7 فیصد کر دیا ہے۔









