اسلام آباد : دارالحکومت کی عدالت نے ڈیجیٹل ڈیزائنر حنا جاوید کے بہیمانہ قتل کیس میں نامزد اہم ملزمان، مقتولہ کے شوہر فیصل اصغر اور ان کے ملازم ذیشان کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل منتقل کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ 10 روزہ جسمانی ریمانڈ کی مدت ختم ہونے پر دونوں ملزمان کو ڈیوٹی سول جج عادل سرور سیال کی عدالت میں پیش کیا گیا۔
دورانِ سماعت تفتیشی افسر نے فاضل عدالت کو بتایا کہ پولیس کی جانب سے معاملے کی چھان بین اور تفتیشی عمل مسلسل جاری ہے، تاہم اس مرحلے پر ملزمان کے مزید جسمانی ریمانڈ کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ عدالت نے تفتیشی افسر کے بیان کا جائزہ لیتے ہوئے ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا فیصلہ سنایا اور ہدایت کی کہ انہیں 16 ستمبر کو دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے، نیز پولیس اس تاریخ تک تفتیش کا عمل مکمل کر کے مقدمے کا چالان عدالت میں جمع کرائے۔
پولیس ترجمان کے مطابق تفتیش کے دوران ملزمان کی نشان دہی پر مبینہ آلۂ قتل، پیچ کس، کپڑا اور لوہے کی تار برآمد کر لی گئی ہے۔ اس کے علاوہ مرکزی ملزم فیصل اصغر کی تحویل سے ان کی پہلی اور دوسری بیوی کے نکاح نامے اور پہلی بیوی ارم زیب کا طلاق نامہ بھی قبضے میں لیا گیا ہے، جن کی یونین کونسل سے قانونی تصدیق کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے۔
عدالتی حکم نامہ موصول ہوتے ہی پولیس ملزمان فیصل اصغر اور ذیشان کو سخت امان و حفاظت میں اڈیالہ جیل لے کر روانہ ہو گئی ہے۔









