لاہور :انگلینڈ کے جاری دورے سے اچانک ریلیز کر کے وطن واپس بھیجے جانے والے قومی کرکٹ ٹیم کے وکٹ کیپر بیٹر محمد رضوان اور اوپننگ بیٹر امام الحق کے خلاف پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی جانب سے سخت نظم و ضبط اور قانون کے تحت کارروائی کی تیاری کی جا رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق دونوں کھلاڑیوں کو اچانک انگلینڈ سے واپس پاکستان بھیجنے کا فیصلہ بورڈ کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے اٹھائے گئے انتہائی اقدامات کا حصہ تھا۔ خاص طور پر اوپنر امام الحق کے معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے پی سی بی نے ایک اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ماضی میں جعلی انجری کا سہارا لینے کے معاملے پر امام الحق پر مستقبل میں ایک سے دو سال تک کی کرکٹ پر پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔
دوسری جانب وکٹ کیپر محمد رضوان کے حوالے سے بھی بورڈ کو شدید تحفظات لاحق ہیں، جن کا تعلق ان کے میدان اور ٹیم کے اندر نظم و ضبط (ڈسپلن) سے بتایا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق آنے والے چند ایام میں بورڈ کے اعلیٰ حکام کی جانب سے محمد رضوان کو طلب کر کے ان سے باقاعدہ باز پرس کی جائے گی۔
کرکٹ بورڈ کے ذرائع نے اشارہ دیا ہے کہ موجودہ صورتحال اور نظم و ضبط کی خلاف ورزیوں کے بعد مستقبل قریب میں محمد رضوان کے قومی ٹیم میں منتخب ہونے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں، جبکہ ان کے خلاف مزید سخت نظم و ضبط پر مبنی اقدامات بھی زیرِ غور ہیں۔









