اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر نے اسلام آباد کے شیشہ کیفوں کی تفصیلات طلبی کیلئے دائر درخواست پر سماعت کی جس دوران آئی جی اسلام آباد اور ڈپٹی کمشنر سمیت دیگر حکام عدالت میں پیش ہوئے۔
اس موقع پر چیف جسٹس ہائیکورٹ نے کہا آپ کے کاروبار کا بہت احترام ہے مگر پورے کا پورا شہر تباہ نہ کریں، تمباکو کے ساتھ اگر چرس کو ملا دیا جائے تو اس کو سموکنگ ہی کہیں گے؟ایسا نہ ہو کہ کل آپ کا بھائی، آپ کے گھر والا کوئی شخص اس کا شکار ہو جائے۔
چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر نےریمارکس دیے کہ رولز بنائے بغیر اِن شیشہ کیفوں کو اس طرح نہیں چلنے دیا جائے گا، نہ کوئی رول بنا اور نہ کوئی ریگولیشنز ہیں، ایک اوپن جگہ بیٹھ کر یہ سب کچھ ہو رہا ہے، یہ تو آپ اپنی نسلیں تباہی کی طرف لے کر جا رہے ہیں۔
آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی نے کہا عدالتی حکم کے بعد ہم نے ان کے خلاف سخت ایکشن لیا ہے، کیفے کے مالکان کی طرف سے مزاحمت کا سامنا بھی کرنا پڑا،14 اور 15 سال کے بچے بچیاں وہاں پائے گئے،کچھ لوگوں پر ایف آئی آر درج کی ہیں اور آگاہی مہم بھی شروع کر رکھی ہے۔
قائم مقام پراسیکیوٹر جنرل منظور احمد ججہ نے کہا آج وزرات صحت اور حکومت کو ڈائریکشن جاری کی جائے کہ ان کے رولز بنائے جائیں، صرف سموکنگ نہیں اس سے بڑھ کر بھی چیزیں ہو رہی ہیں ہم اس پر رپورٹ دیں گے۔
چیف کمشنر اور ضلعی انتظامیہ نے تحریری جواب جمع کرایا کہ باقاعدہ قوانین کی منظوری تک شیشہ کیفوں کے این او سی عارضی انتظام کے تحت جاری کیے جا رہے ہیں، ضلعی انتظامیہ نے شیشہ کیفوں کے تمام این او سیز بغیر کسی فیس کے جاری کیے ہیں۔
ضلعی انتظامیہ کے جمع جواب میں کہا گیا کہ شیشہ کیفے کے لیے کوئی الگ ایس او پیز بنانے کی ضرورت نہیں، ہائی کورٹ کے طے شدہ اصول ہی این او سی کا معیار ہیں، ہائی کورٹ اور عالمی ادارہ صحت کی ہدایات کی روشنی میں شیشہ صرف کھلی اور بغیر چھت والی جگہوں پر فراہم کرنے کی اجازت ہے جس کے لیے متعلقہ اسسٹنٹ کمشنر سے الگ تحریری “ٹیرس پرمٹ” حاصل کرنا لازمی ہے۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق شیشہ کیفوں میں کوئلہ اور متعلقہ سامان کا غیرمحفوظ ذخیرہ آتشزدگی کا بڑا خطرہ ہے، ریسٹورنٹس کے لیے فائر سیفٹی اور آتشزدگی سے بچاؤ کے تمام اقدامات لازمی قرار دیے گئے ہیں۔
ضلعی انتظامیہ جمع جواب میں کہا گیا کہ شیشہ اور دیگر تمباکو مصنوعات صرف بالغ افراد کو پیش کرنے اور ماحولیاتی معیار برقرار رکھنے کی شرط عائد ہے، عدالتی حکم ایک عبوری انتظام ہے جو وفاقی حکومت کے باقاعدہ قواعد بننے تک نافذ العمل رہے گا۔
مزید پڑھیں:برآمدات پر مبنی معاشی ترقی اولین ترجیح ہے: وزیراعظم
بعد ازاں اسلام آباد ہائیکورٹ نے رولز بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی سماعت ایک ماہ تک ملتوی کر دی۔









