بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

سعودی عرب پر حوثیوں کے حملے، دو افراد زخمی، مسجد سمیت متعدد عمارتوں اور گاڑیوں کو نقصان

یمن (Yemen)کے حوثی باغیوں نے مسلسل دوسرے روز بھی سعودی عرب کے جنوبی علاقوں کو میزائل حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔ سعودی سول ڈیفنس کے حکام کے مطابق یمن کی جانب سے داغا گیا میزائل سعودی عرب کے جنوبی خطے جازان کے طوال گورنریٹ میں گرا جس کے نتیجے میں دو افراد زخمی ہوئے جبکہ ایک مسجد، متعدد عمارتوں اور گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچا۔

دوسری جانب حوثی ترجمان کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے نجران کے علاقے شرورہ میں ایک عسکری اڈے کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ اقوامِ متحدہ کے خصوصی نمائندے ہنس گرنڈبرگ نے تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یمن اب جنگ کے ایک نئے اور انتہائی خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔

یمن کے اندرونی محاذ پر بھی شدید لڑائی جاری ہے جہاں حوثی جنگجوؤں نے صوبہ تعز پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

یمنی ٹی وی پر جاری کی گئی ویڈیو میں حوثی جنگجوؤں کو فوجی گاڑیوں پر رائفلیں لہراتے اور فتح کا جشن مناتے دکھایا گیا ہے۔

اس پیش رفت کے جواب میں یمن کی سرکاری فوج نے حوثیوں کے ایک بڑے عسکری قافلے پر فضائی حملہ کر کے میزائلوں اور گولہ بارود سے بھرے درجنوں ٹرکوں کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے جو ساحلی شہر المخا سے حوثیوں کے زیرِ قبضہ دارالحکومت صنعاء کی طرف جا رہے تھے۔

امریکی میڈیا کی اطلاعات کے مطابق سعودی عرب اب حوثیوں کے خلاف اکیلے ہی بڑے عسکری آپریشن پر غور کر رہا ہے جس میں امریکی انتظامیہ انٹیلی جنس اور اہداف کی نشاندہی میں معاونت فراہم کرے گی۔

علاوہ ازیں عراق کی جانب سے کیے گئے ڈرون حملوں کے بعد سعودی عرب کی وزارتِ توانائی نے ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن کو احتیاطی تدابیر کے طور پر عارضی طور پر بند کر دیا ہے۔

مزیدپڑھیں:اے آئی کی ترقی کی رفتار سست کریں ورنہ مہینوں میں” بغاوت” ہو سکتی ہے، انتھروپک کے سربراہ کی وارننگ

سعودی وزارتِ خارجہ نے عراق سے ہونے والے ڈرون حملوں کی شدید مذمت کی تاہم عراقی وزیراعظم کی درخواست پر فوری جوابی کارروائی مؤخر کر دی، جسے بغداد حکومت نے خوش آئند قرار دیا۔

پاکستان نے بھی ان حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ دفترِ خارجہ کے ترجمان نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ شہری انفراسٹرکچر اور سعودی عرب کی خودمختاری پر حملہ بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے اور پاکستان سعودی عرب کی سیکیورٹی، سلامتی اور خوشحالی کے لیے اس کے ساتھ مکمل اور غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتا ہے۔

تنازع کے سفارتی حل پر بات کرتے ہوئے ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ یمن کے مسائل کا حل فوجی کشیدگی میں نہیں بلکہ مذاکرات میں مضمر ہے اور ایران اس کے لیے تعاون پر تیار ہے۔

اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ خطے میں امن یمن کی خودمختاری کے احترام سے وابستہ ہے، تاہم انہوں نے امریکا کو ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز پر ایران کا کنٹرول برقرار ہے اور ایران کے خلاف قرار داد کی حمایت کرنے والے ممالک کو اس کے نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔